یمنی مسلح افواج کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر نئے حملے
صدر رشاد محمد العلیمی نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا (فوٹو: عرب نیوز)
یمنی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا ہے کہ یمنی مسلح افواج نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں نئے حملے کیے ہیں۔
پیر کو ایکس پر جاری ایک بیان میں میجر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ ’ہماری مسلح افواج منظور شدہ پلان کے تحت مختلف محاذوں پر اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری افواج نے صعدہ، الجوف اور تعز میں حوثی ملیشیا کے انفراسٹرکچر کے 1122 اہداف کو نشانہ بنایا۔‘
انہوں نے کہا کہ یمنی مسلح افواج نے ریاستی اداروں کو حوثیوں کے قبضے سے واپس لینے اور گروپ کی بغاوت کا خاتمہ کرنے کے لیے آزادی کی جنگ شروع کر دی ہے۔
میجر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی نےمزید دعویٰ کیا کہ ’فیلڈ رپورٹس کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں 1747 حوثی عناصر کو غیر موثر کیا گیا جبکہ 364 فوجی گاڑیوں، سازوسامان اور رسد پہنچانے والی گاڑیوں کو تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔‘
اتوار کو یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے صدر رشاد محمد العلیمی نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔
العلیمی نے کہا کہ ’آج ہم اپنی قوم کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ریاست نے امن کا راستہ اختیار کرنے میں ’بڑی قربانیاں‘ دی ہیں۔
العلیمی کے مطابق فوجی کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں شہریوں کے امن، حقوق اور وقار کی بحالی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان علاقوں کے شہری فوجی کارروائیوں کا ہدف نہیں ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے بھی کہا ہے کہ وہ یمنی افواج کو آپریشنل مدد فراہم کرتا رہے گا جب تک کہ ملک کے ریاستی ادارے بحال ہو جائیں اور حوثی ملیشیا سے لاحق خطرہ ختم کر دیا جائے۔