Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سٹوڈنٹ ویزے پر امریکہ جانے والوں کو ملازمت کے لیے 70 ہزار ڈالر فیس ادا کرنا ہوگی؟

2024 میں الیکشن مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے غیرملکی طلبہ کے آسانیاں پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
سٹوڈنٹ ویزے پر امریکہ جا کر کام کرنے کے بھی خواہش مند غیرملکیوں سے 70 ہزار ڈالر فیس لینے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے دی گئی تجویز کے مطابق فیس تربیت کی مد میں لی جائے گی اور یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سخت پالیسی کا بھی حصہ دکھائی دیتی ہے جو انہوں نے غیرملکیوں کے لیے اپنا رکھی ہے۔
تجویز کے تحت ویزا رکھنے والے غیر ملکی طلبہ کو ملازمت کے دوران تربیت جسے آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ (او پی ٹی) کہا جاتا ہے، کے لیے کسی مںظور شدہ ادارے کو 70 ہزار ڈالر ادا کرنا ہوں گے جبکہ مزید تربیت کے لیے مزید 30 ہزار ڈالر کی ادائیگی کرنا ہو گی۔
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ نئے قواعد کا مقصد دھوکہ دہی کو روکنا، امیگریشن نظام کو شفاف بنانا، اس کی مضبوطی کو برقرار رکھنا اور امریکی کارکنوں کا تحفظ ہے۔
موجودہ او پی ٹی نظام کے تحت غیرملکی طلبہ تعلیم کےدوران ہفتے میں 20 گھنٹے تک کام کی تربیت حاصل کر سکتے ہیں اور گریجویشن کے بعد بھی محدود مدت تک کام کر سکتے ہیں۔
سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور میتھس کی ڈگری رکھنے والے طلبہ کو اضافی مدت بھی دی جاتی ہے۔ اس پروگرام میں شامل طلبہ اس کے لیے پانچ سو ڈالر کی فیس ادا کرتے ہیں۔
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے اس بارے میں کہا گیا ہے کہ فیس اس لیے مقرر کی جا رہی ہے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ آجر، ایف ون ویزا رکھنے والے طلبہ اور تعلیمی ادارے مقررہ قواعد کے مطابق کام کریں۔
یہ تربیتی پروگرام اکثر ان طلبہ ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے بھی ذریعہ بنتے ہیں جو امریکہ میں ملازمت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اقدام کا مقصد امیگریشن نظام کو شفاف بنانا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایچ ون بی ویزے کی فیس بھی بڑھائی گئی ہے جبکہ اس کے حصول پر کچھ اضافی پندشیں بھی لگائی گئی ہیں۔
کئی دہائیوں سے ایچ ون بی پروگرام دنیا بھر خصوصاً انڈیا اور چین سے آنے والے نوجوان انجینیئرز اور سائنس دانوں کو امریکہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد اچھی ملازمت کے حصول اور مستقبل رہائش کی راہ بھی ہموار کرتا آ رہا ہے۔
بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی ماہر کارکنوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ان ملازمین پر کافی انحصار کرتی ہیں۔
2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ امریکہ میں غیرملکی طلبہ کا قیام آسان بنائیں گے اور گریجویشن کے بعد انہیں خودکار طور پر گرین کارڈ دیے جانے کی تجویز بھی دی تھی۔
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی متذکرہ بالا اور دوسری تجاویز کو بھی فوری قانونی چیلنج کا سامنا ہونے کا امکان ہے۔
ٹیلنٹ موبیلٹی فنڈ کے ڈائریکٹر ڈگ رینڈ نے بدھ کو لنکڈ ان پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ یہ مجوزہ تجویز عدالت میں آنے کے بعد کامیاب نہیں ہو سکتی جیسا کہ دیگر پابندیوں کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔

شیئر: