Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غیرملکیوں کے ویزوں کی میعاد میں کمی، امریکی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کا نیا قانون روک دیا

نئے قانون کے تحت غیرملکی طلبہ و صحافیوں کے ویزوں کی مدت میں کمی کی جا رہی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی وفاقی جج نے پیر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایک نیا قانون نافذ کرنے سے روک دیا ہے جس کے تحت غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے لیے امریکہ میں قیام کی مدت محدود کی جانی تھی اور انہیں مزید قیام کے لیے توسیع کی درخواست دینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو بوسٹن میں ہونے والی سماعت کے موقع پر جج ایس ڈینس سیلر نے یونیورسٹیوں اور مختلف یونینز کے اتحاد کے حق میں فیصلہ دیا جو کہ محکمۂ ہوم لینڈ کے نئے قانون کے نفاذ سے ایک روز قبل سامنے آیا ہے۔
سماعت کے موقع پر جج کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ ایس نے یہ پالیسی ’انتہائی کمزور جواز‘ کی بنیاد پر بنائی ہے۔ محکمے نے قومی سلامتی اور ویزا پروگرام میں دھوکہ دہی کی روک تھام کو پالیسی کی وجوہات قرار دیا تاہم مزید قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور اس پالیسی سے متعلق خدشات یا ایسے متبادل طریقوں پر غور نہیں کیا گیا جو اس سے کم سخت ہوں۔
اس فیصلے کے بعد ڈی ایچ ایس سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم وہاں سے فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
جج ایس ڈینس سیلر کو سابق ری پبلکن صدر جارج ڈبلیو بش نے مقرر کیا تھا۔
انہوں نے فیصلے میں لکھا کہ اس نئے قانون سے قریباً 50 سالہ پرانا نظام ہی بدل جائے گا جس کے تحت غیرملکی طلبہ کو ویزا تب تک ملتا ہے جب تک ان کی تعلیم جاری رہتی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نظام کی وجہ سے کروڑوں غیرملکی طلبہ اور محققین امریکہ آئے جس سے سائنس، طب اور ٹیکنالوجی میں اہم تحقیقات ہوئیں اور امریکہ کی معیشت کو بھی کافی فائدہ پہنچا۔
جج نے کہا کہ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کا جولائی میں بنایا گیا قانون غیرملکی طلبہ، پروفیسرز اور صحافیوں کی تعداد کو کم کر دے گا۔

صدر دونلڈ ٹرمپ پہلے بھی غیرملکیوں کی آمد محدود کرنے کے حوالے سے سرگرم رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

نئے قانون کے تحت غیرملکی طلبہ کے ’ایف‘ ویزے اور ثقافتی پروگرام کے تبادلے کے پروگرام کے لیے ملنے والے ویزے ’جے‘ کی مدت زیادہ سے زیادہ چار سال ہو گی جبکہ صحافیوں کے ’آئی‘ ویزے کی مدت زیادہ سے زیادہ 240 روز کی گئی تھی۔
اس وقت امریکہ میں قریباً 16 لاکھ افراد ایف ویزہ رکھتے ہیں جبکہ پانچ لاکھ کے پاس جے ویزا ہے، ایم آئی ٹی اور ہارورڈ جیسی بڑی جامعات میں، خصوصاً اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں غیرملکی طلبہ کی تعداد کافی زیادہ ہے۔
جج سیلر نے فیصلے کے موقع پر یہ بھی کہا کہ اگر یہ قانون نافذ ہوا تو ایسی جامعات کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے اور طلبہ کی تعداد بھی کم ہو جائے گی۔
انہوں نے فیصلے میں لکھا کہ ’اس قانون سے امریکی نظام تعلیم اور معیشت کو تباہ کن نقصان ہو سکتا ہے۔‘

شیئر: