28 سال بعد گھر واپسی، برطانوی شہری نے پیدل 58 ہزار کلومیٹر کا سفر کیسے مکمل کیا؟
28 سال بعد گھر واپسی، برطانوی شہری نے پیدل 58 ہزار کلومیٹر کا سفر کیسے مکمل کیا؟
جمعرات 15 اکتوبر 2026 5:17
57 سالہ سابق فوجی کارل بشبی تقریباً 28 سال بعد گھر واپس پہنچنے کے قریب ہیں۔(فوٹو:دی گارڈین)
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 57 سالہ سابق فوجی کارل بشبی تقریباً 28 سال بعد گھر واپس پہنچنے کے قریب ہیں۔
وہ اب تک تقریباً 58 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے 29 ممالک سے گزر چکے ہیں اور انہیں امید ہے کہ یکم نومبر کو انگلینڈ کے شہر ہل میں اپنی والدہ کے گھر پہنچ جائیں گے۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کے مطابق کارل بشبی نے یکم نومبر 1998 کو ہل میں اپنا گھر چھوڑا تھا، جبکہ چلی کا شہر پونتا آریناس ان کے پیدل سفر کا باقاعدہ نقطۂ آغاز تھا۔ اب انہیں ڈوور سے ہل تک مزید تقریباً 400 کلومیٹر پیدل چلنا ہے۔
انہوں نے اپنی مہم کو ’گولیاتھ ایکسپیڈیشن‘ کا نام دیا اور دو اصول طے کیے: سفر کے لیے کسی سواری کا استعمال نہیں کریں گے اور پیدل گھر پہنچنے سے پہلے واپس نہیں جائیں گے۔ ضروری سامان رکھنے کے لیے وہ ایک تبدیل شدہ گالف ٹرالی ساتھ لے کر چلتے تھے، جسے انہوں نے ’دی بیسٹ‘ کا نام دیا۔
چلی کے پٹاگونیا علاقے میں سفر کے آغاز پر کارل بشبی کو شدید ہواؤں، بھوک اور بلندی پر سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک موقع پر انہوں نے تین دن تک صرف ایک کیلے پر گزارا کیا۔ بعد میں صحرائے اتاکاما سے گزرتے ہوئے ٹرک اور بس ڈرائیور انہیں پھل اور پانی دیتے رہے۔
2000 میں پیرو کے سفر کے دوران وہ پیٹ کے شدید انفیکشن اور دیگر بیکٹیریائی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے۔ ایک مقامی خاندان نے انہیں اپنے گھر ٹھہرایا اور خاندان کی ڈاکٹر خاتون نے ان کے علاج میں مدد کی۔
کارل بشبی کے مطابق اس سفر نے انسانیت کے بارے میں ان کی سوچ بدل دی۔ فوج میں 12 سال گزارنے کے بعد ان کا انسانوں کے بارے میں نظریہ زیادہ مثبت نہیں تھا، لیکن مختلف ممالک میں اجنبی لوگوں کی مہربانی نے انہیں متاثر کیا۔
انہوں نے ’دی گارڈین‘ کو بتایا، ’جن لوگوں سے میری ملاقات ہوئی، ان میں سے 99.999 فیصد انسانیت کی بہترین مثال تھے۔ ہر ملک میں ایسا ہی رہا۔‘
کولمبیا اور پاناما کے درمیان واقع ڈیرین گیپ سے گزرنا ان کے سفر کے خطرناک مراحل میں شامل تھا۔(فوٹو:دی گارڈین)
کولمبیا اور پاناما کے درمیان واقع ڈیرین گیپ سے گزرنا ان کے سفر کے خطرناک مراحل میں شامل تھا۔ گھنے جنگلات، دلدلی زمین اور پہاڑوں پر مشتمل اس علاقے میں انہیں مسلح گروہوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مواقع پر بندوق بردار افراد نے انہیں روک لیا، لیکن وہ بات چیت کے ذریعے وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
2002 سے 2005 کے دوران امریکا سے ہوتے ہوئے الاسکا پہنچنے کے بعد انہیں روس جانے کے لیے بیرنگ آبنائے عبور کرنا تھی۔
2006 میں انہوں نے فرانسیسی نژاد امریکی مہم جو دیمتری کیفَر کے ساتھ یہ راستہ پیدل عبور کیا۔ دونوں کو قطبی ریچھ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ایک موقع پر برف ٹوٹنے سے ان کی سامان سے بھری سلیجز منجمد سمندر میں جا گریں۔ منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ کی سردی میں خوراک اور سامان ضائع ہونے سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا، تاہم وہ سلیجز واپس نکالنے میں کامیاب رہے۔
اس تجربے کے بارے میں کارل بشبی نے کہا، ’کچھ لوگ اسے مضحکہ خیز سمجھ سکتے ہیں، کچھ غیر ذمہ دارانہ کہیں گے، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو میرے احساسات کو سمجھتے ہیں۔ زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے جان دینا بھی قابلِ قبول ہے۔‘
2005 میں کارل بشبی نے اپنے سفر پر ایک کتاب شائع کی، لیکن عالمی مالی بحران کے باعث ان کے معاون ادارے نے مالی تعاون ختم کر دیا۔(فوٹو:دی گارڈین)
روس پہنچنے کے بعد دونوں کو جاسوسی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا اور بالآخر واپس الاسکا بھیج دیا گیا۔ بعد کے برسوں میں روس میں امیگریشن قوانین اور خراب موسم، جبکہ چین کے سنکیانگ علاقے میں حکام کے شبہات نے بھی ان کے سفر میں رکاوٹیں پیدا کیں۔
2005 میں کارل بشبی نے اپنے سفر پر ایک کتاب شائع کی، لیکن عالمی مالی بحران کے باعث ان کے معاون ادارے نے مالی تعاون ختم کر دیا۔ وہ میکسیکو میں رک گئے اور اخراجات پورے کرنے کے لیے تقریباً دو سال ویٹر کے طور پر کام کیا۔
2010 میں امریکی ٹی وی سیریز ’ہاؤس آف کارڈز‘ کے تخلیق کار بیو ولیمن نے ان کی مالی مدد کی، جس کے بعد انہوں نے سفر دوبارہ شروع کیا۔ کورونا وبا کے دوران انہیں میکسیکو میں مزید تقریباً تین سال رکنا پڑا۔
طویل سفر نے ان کی ذاتی زندگی کو بھی متاثر کیا۔ کولمبیا میں ایک خاتون کے ساتھ ان کا تعلق تقریباً سات سال رہا، جبکہ منگولیا میں جاپانی خاتون ریکا کے ساتھ ان کا رشتہ تین سال تک قائم رہا۔ مسلسل جدائی کے باعث یہ تعلقات برقرار نہ رہ سکے۔
وہ اپنے بیٹے ایڈم کو بڑا ہوتے نہیں دیکھ سکے اور اپنی 12 سالہ پوتی سے بھی ابھی تک نہیں ملے۔ کارل بشبی کے مطابق رشتوں سے دوری اس سفر کا سب سے مشکل پہلو تھا۔
بشبی نے تقریباً 34 کلومیٹر طویل سمندری راستہ عبور کرنے کے لیے تین دن میں 20 گھنٹے پانی میں گزارے۔(فوٹو:دی گارڈین)
اگست 2024 میں کارل بشبی نے قازقستان سے آذربائیجان تک بحیرہ کیسپین تیر کر عبور کیا۔ اس مہم میں انہیں 31 دن لگے۔ اس کے بعد وہ یورپ سے ہوتے ہوئے فرانس پہنچے اور انگلینڈ واپسی کے لیے انگلش چینل عبور کیا۔
پانچ اکتوبر 2026 کو وہ ڈوور کے ساحل پر پہنچے۔ تقریباً 34 کلومیٹر طویل سمندری راستہ عبور کرنے کے لیے انہوں نے تین دن میں مجموعی طور پر تقریباً 20 گھنٹے پانی میں گزارے۔
انہوں نے مذاقاً اس عمل کو ’فلوٹِمنگ‘ کا نام دیا، جو تیراکی اور پانی پر تیرتے رہنے کے امتزاج کے لیے استعمال کیا گیا۔
برطانیہ پہنچنے کے بعد انہوں نے تقریباً 28 سال میں پہلی مرتبہ اپنی پسندیدہ ڈش ’فش اینڈ چپس‘ کھائی۔
گھر واپسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کارل بشبی نے کہا، ’میری زندگی کا مقصد اچانک ختم ہونے والا ہے۔‘(فوٹو:دی گارڈین)
گھر واپسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کارل بشبی نے کہا، ’میری زندگی کا مقصد اچانک ختم ہونے والا ہے۔‘ ان کے لیے اب ملازمت تلاش کرنا اور معمول کی زندگی شروع کرنا ایک نیا چیلنج ہوگا۔ وہ اپنی والدہ کے گھر رہنے اور خاندان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے خواہش مند ہیں۔
ان کے سفر پر جرمن فلم ساز ورنر ہرزوگ ایک دستاویزی فلم بھی بنا رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً 58 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرنے والے کارل بشبی کو پیدل چلنا خاص پسند نہیں۔ انہوں نے ’دی گارڈین‘ کو بتایا، ’نہیں، یہ انتہائی بور کرنے والا کام ہے۔ یہ واقعی بہت، بہت اکتا دینے والا ہے۔‘
ان کے لیے اصل کشش پیدل چلنے کے بجائے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کی پوری مہم تھی۔ اب انہیں امید ہے کہ یکم نومبر کو ہل پہنچ کر وہ تقریباً تین دہائیوں پر محیط اس سفر کو مکمل کر لیں گے۔