انڈین پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں لاہور میں ہونے والی ’ورلڈ پنجابی کانفرنس‘ میں شرکت کا دعوتی خط موصول ہوا ہے جس میں ان کی میزبانی کی پیشکش کی گئی ہے، تاہم وہ وہاں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
انڈین پنجاب کی قانون ساز اسمبلی (ودھان سبھا) میں گفتگو کرتے ہوئے بھگونت مان نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ ’مجھے تو یہ فرانس وغیرہ اور جاپان والی طرف نہیں جانے دیتے، پاکستان تو کہاں جانے دیں گے؟‘
مزید پڑھیں
تاہم انہوں نے خطے کے ثقافتی اشتراک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اطراف کا کلچر ایک جیسا ہے، اور انڈین پنجاب سے بھی بہت سے شاعر اس کانفرنس میں شرکت کے لیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں خطوں کے مسائل، ثقافتی رنگ اور مشکلات ایک جیسی ہیں، اس لیے خطے میں میل ملاپ ہونا چاہیے۔
اس موقعے پر ودھان سبھا کے سپیکر نے دلچسپ مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ’سی ایم صاحب! اگر آپ کو اجازت مل گئی تو ہمیں بھی ساتھ لے چلیے گا۔‘
اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھگونت مان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پوری ودھان سبھا کے ارکان چاہے وہ حکومتی بینچوں پر ہوں یا اپوزیشن میں سپیکر کی قیادت میں کرتارپور صاحب جائیں۔
انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ااگر کرتارپور صاحب کی راہداری کھل جائے تو جا کر ماتھا ٹیک کر آئیں۔ بابا گُرو نانک کی اس دھرتی پر نتمستک ہوں (سر جھکائیں) جہاں 16 سال گرو صاحب نے محنت و ریاضت کی ہے، اپنے ہاتھوں کی سچی کمائی کی ہے۔‘












