چین کے بڑے ڈیم کا جواب، انڈیا کا 11200 میگاواٹ کا منصوبہ مقامی احتجاج کی زد میں
چین کے بڑے ڈیم کا جواب، انڈیا کا 11200 میگاواٹ کا منصوبہ مقامی احتجاج کی زد میں
اتوار 25 اکتوبر 2026 10:34
انڈیا کا کہنا ہے کہ مجوزہ ڈیم چین کے 167 ارب ڈالر مالیت کے یاکسیا منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
چین کے بالائی علاقے میں مجوزہ پن بجلی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائے جانے والے ایک بڑے ہمالیائی ڈیم کے خلاف احتجاج کرنے والے انڈین مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں اور انہوں نے عمارتوں کو آگ لگا دی۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شمال مشرقی انڈین ریاست اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو نے سنیچر کو صحافیوں کو بتایا کہ یہ تشدد جمعے کی رات ریاستی ملکیتی پن بجلی کمپنی این ایچ پی سی کے مجوزہ 11 ہزار 200 سو میگاواٹ سیانگ اپر ملٹی پرپز پروجیکٹ کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران پھوٹ پڑا۔ یہ بات ۔
کھانڈو نے کہا کہ ’ہجوم نے بہت سی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس سٹیشن تباہ کر دیا گیا، این ایچ پی سی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی، جبکہ متعدد منتخب نمائندوں کے گھروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘
مظاہرین کی جانب سے پھینکے گئے پتھروں سے تقریباً 40 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ مظاہرین نے این ایچ پی سی کے دفاتر میں بھی توڑ پھوڑ کی۔ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے استعمال کیے۔
کھانڈو نے منصوبے کی مخالفت کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کریں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم سے سوال کریں، ہم سے مکالمہ کریں، تشدد کا راستہ اختیار نہ کریں۔‘
انڈیا کا کہنا ہے کہ مجوزہ ڈیم چین کے 167 ارب ڈالر مالیت کے یاکسیا منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے، جو تبت میں دریائے کے بالائی حصے پر تعمیر کیا جانے والا ممکنہ طور پر ریکارڈ ساز پن بجلی منصوبہ ہے۔
نئی دہلی کو خدشہ ہے کہ چینی منصوبہ زیریں علاقوں میں پانی کے بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ اس کا کہنا ہے کہ مجوزہ انڈین ڈیم ایک وسیع آبی ذخیرہ بنائے گا جس میں پانی محفوظ کیا جا سکے گا اور دریائے برہم پتر میں پانی کے بہاؤ کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس کا منصوبہ زیریں علاقوں پر کوئی ’منفی اثر‘ نہیں ڈالے گا۔
چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ انڈیا کا مؤقف ہے کہ یہ ریاست اس کے علاقے کا اٹوٹ انگ ہے۔
انڈیا کی وزارت خارجہ نے جمعے کو کہا کہ سرحدی کشیدگی کے انتظام کے لیے دونوں ممالک باقاعدہ رابطے میں ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کا مجوزہ ڈیم، جو ملک کا اب تک کا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ ہوگا، کو مقامی آبادی کی شدید مخالفت کا سامنا ہے کیونکہ لوگوں کو اپنے گھروں اور زمینوں کے ضائع ہونے کا خوف ہے۔
یہ منصوبہ دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک کے درمیان کشیدگی کو بھی نمایاں کرتا ہے جو ہمالیہ میں واقع ایک متنازع سرحد کا اشتراک کرتے ہیں جہاں دسیوں ہزار فوجی تعینات ہیں۔
انڈیا کی وزارت خارجہ نے جمعے کو کہا کہ سرحدی کشیدگی کے انتظام کے لیے دونوں ممالک باقاعدہ رابطے میں ہیں، یہ بیان ایک اعلیٰ انڈین سرحدی پولیس افسر شتروجیت کپور کی جانب سے انڈین اور چینی افواج کے درمیان ’آمنے سامنے آنے‘ کے واقعات کی اطلاع کے بعد سامنے آیا۔
نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’وقتاً فوقتاً انڈیا۔چین سرحدی علاقوں میں صورتحال اس وقت خراب ہو جاتی ہے جب چینی افواج اپنی معمول کی گشتی سرگرمیوں سے ہٹ جاتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دونوں فریق زیر التوا مسائل کے حل اور کسی بھی غلط فہمی یا غلط اندازے سے بچنے کے لیے موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کار استعمال کرتے رہتے ہیں۔‘