Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

متھورا ریپ کیس: وہ واقعہ جس نے انڈیا کو ہلا دیا اور ’رضامندی‘ کے قانون کو بدل ڈالا

سنہ 1979 میں سپریم کورٹ نے دونوں ملزمان کو بری کر دیا تھا (فائل فوٹو: ٹائمز آف انڈیا)
یہ مارچ کے تیسرے ہفتے میں انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں گڑھ چرولی ضلعے کے ایک چھوٹے سے قصبے دیسائی گنج کا واقعہ ہے جب ایک نوجوان محبت کے خلاف گھر والوں نے پولیس میں شکایت درج کر دی۔
ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق وہ 54 برس قبل 26 مارچ 1972 کی ایک گرم دوپہر تھی اور دیسائی گنج قصبے کی زندگی ہمیشہ کی طرح سست رفتار سے چل رہی تھی جب متھورا نامی ایک لڑکی جو 14 سے 16 سال کی تھی اور شاید اپنی بلوغت کو بھی نہیں پہنچی تھی، اسے اس کے بھائی اور وادسا کے ایک ملازم کے ساتھ پولیس سٹیشن طلب کیا گیا۔
پولیس سٹیشن بلانے کی وجہ ایک شکایت تھی جس میں اس پر اشوک نامی لڑکے کے ساتھ تعلق کی بات کہی گئی تھی۔ گاؤں میں ایسی باتیں آگ کی طرح پھیلتی ہیں اور اکثر سچ سے زیادہ افواہیں زندہ رہتی ہیں۔
پولیس والوں نے کچھ دیر بعد اشوک اور متھورا کے بھائی کو واپس بھیج دیا اور کہا کہ ’ہم صرف متھورا سے پوچھ گچھ کریں گے، تم لوگ جا سکتے ہو۔‘
رپورٹ کے مطابق متھورا کو شاید اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ وہ ایک کونے میں بیٹھی رہی لیکن پھر اس کے ساتھ جو ہوا اس نے اس کی زبان بند کر دی۔
رات کے سناٹے میں دو وردی پوش آدمی، تُکارام اور گنپت، اس کے قریب آئے۔ وردی جو حفاظت کی علامت ہونی چاہیے تھی وہ اس کے لیے خوف کی شکل اختیار کر چکی تھی۔
اگلی صبح، متھورا وہ لڑکی نہیں رہی جو وہ کل تک تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک خاموش چیخ تھی، ایک ایسا درد جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ مگر اس کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔
مقدمہ عدالت میں پہنچا۔ سیشن کورٹ نے دونوں پولیس والوں کو مجرم قرار دیا۔ لیکن جب مقدمہ بمبئی ہائی کورٹ میں پہنچا تو وہاں، ایک کو پولیس والے کو بری کر دیا گیا اور فیصلہ سنایا کہ کوئی زخم کے نشان نہیں ملے اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ ’اس کی عادی‘ تھی۔ جیسے کسی انسان کی عزت کا پیمانہ اس کے ماضی سے ناپا جا سکتا ہو۔ یہ الفاظ نہ صرف متھورا کے لیے بلکہ ہر اس عورت کے لیے ایک طمانچہ تھے جو انصاف کی امید رکھتی ہے۔
اس دوران کوئی پانچ چھ سال بیت گئے معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ گیا۔
سنہ 1979 میں سپریم کورٹ نے دونوں ملزمان کو بری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ لڑکی نے مزاحمت نہیں کی، اس لیے یہ ’پرامن‘ یا رضامندانہ تعلق تھا۔ کاغذ پر لکھا گیا یہ جملہ حقیقت میں ہزاروں دلوں میں آگ بن کر بھڑک اٹھا۔
ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گئے۔ دلی، بمبئی، حیدرآباد اور ناگپور میں  طلبہ، وکلا، اساتذہ سب سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے یہ نعرے لگائے کہ ’خاموشی بھی کبھی رضامندی نہیں ہوتی!‘ یہ نعرہ نگر نگر گلیوں میں گونجنے لگا۔
لوگوں نے سوال اٹھایا ’کیا ایک لڑکی کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے زخمی ہونا ضروری ہے؟ کیا خوف میں سہمی ہوئی خاموشی کو رضامندی کہا جا سکتا ہے؟‘
متھورا کی کہانی اب صرف اس کی ذاتی کہانی نہیں رہی تھی۔ یہ ایک تحریک بن چکی تھی۔ اخبارات میں مضامین شائع ہونے لگے، یونیورسٹیوں میں بحثیں ہونے لگیں اور قانون دانوں نے پرانے قوانین پر سوال اٹھانا شروع کر دیے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب معاشرہ آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔ ایک ایسا آئینہ جس میں نہ صرف نظام کی خامیاں نظر آ رہی تھیں بلکہ وہ رویے بھی جو برسوں سے خاموشی کے پردے میں چھپے ہوئے تھے۔
سی این این کی مونی بسو نے اس واقعے کے 40 سال بعد اس کی تحقیقات پر مبنی ایک رپورٹ پیش کی جو سی این این کی ویب سائٹ پر آج بھی موجود ہے۔
آخرکار، اس عوامی دباؤ نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ قانون میں تبدیلی کرے۔
سنہ 1983 میں پارلیمان میں زوردار بحث ہوئی اور عصمت دری کے قوانین میں اہم ترامیم کی گئیں۔ ’کسٹوڈیل ریپ‘ یعنی حراست میں جنسی زیادتی کو ایک الگ اور سنگین جرم تسلیم کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ’رضامندی‘ کی تعریف کو بھی نئے سرے سے سمجھا گیا اور یہ تسلیم کیا گیا کہ خاموشی یا مزاحمت نہ کر پانا، رضامندی نہیں ہوتا۔
متھورا شاید کبھی اپنی کھوئی ہوئی معصومیت واپس نہ پا سکی، مگر اس کی کہانی نے ایک ایسا دروازہ کھولا جس سے روشنی اندر آنا شروع ہوئی۔ اس کی خاموشی نے ایک ایسا شور پیدا کیا جس نے پورے ملک کو جگا دیا۔
ٹائمز آف انڈیا کی سومترا بوس جب ان سے پوچھتی ہیں کہ ان کی خاموشی نے پورے ملک کو ہلا دیا اور قانون میں تبدیلی کا باعث بنی تو انہوں نے تھوڑی دیر کے لیے دور خلاؤں میں دیکھا اور مراٹھی زبان میں کہا کہ ’اب کیا ہو سکتا ہے۔ گھر میں کھانے کے لیے ایک دانہ بھی نہیں ہے اور نہ کوئی سبزی ہے۔‘
چیف جسٹس بی آر گاوئی نے اپناعہدہ چھوڑنے سے دس دن قبل ایک اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر اس واقعے کو ’محکمے کی تاریخ کا تاریک ترین لمحہ‘ قرار دیا اور سپریم کورٹ کی جانب سے ہیڈ کانسٹیبل تکا رام اور کانسٹیبل گنپت کو ایک 14 سالہ لڑکی کے ریپ کے الزام میں بری کرنے کو ’محکمے کے لیے شرمساری اور مستقل شرمندگی کا فیصلہ‘ قرار دیا۔

 

شیئر: