Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی یونیورسٹیوں میں چین کے ’کنفیوشس انسٹیٹیوٹس‘ قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار

ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا کہ کنفیوشس انسٹیٹیوٹس اب بھی امریکی جامعات میں مختلف ناموں اور شکلوں میں کام کر رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکی جامعات میں قائم چین کے مالی تعاون سے چلنے والے ثقافتی مراکز کنفیوشس انسٹیٹیوٹس امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق واشنگٹن طویل عرصے سے کنفیوشس انسٹیٹیوٹس پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ چینی پروپیگنڈا کے اوزار ہیں، اور ان کے خلاف مختلف اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا کہ کنفیوشس انسٹیٹیوٹس اب بھی امریکی جامعات میں مختلف ناموں اور شکلوں میں کام کر رہے ہیں، اسی لیے محکمہ دفاع نے انہیں ان اداروں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے جو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔
ہیگسیتھ نے کہا کہ ’یہ معلوم ہوا کہ 30 جامعات میں 80 نئے پروپیگنڈا مراکز مختلف ناموں اور مختلف چارٹرز کے تحت قائم ہو چکے تھے، لیکن ان کا مقصد ایک ہی تھا: دانشورانہ املاک کی چوری کرنا اور امریکی طلبہ کے ذہنوں میں اثر و رسوخ پیدا کرنا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران محکمہ دفاع نے ’منظم انداز میں ان تمام تنظیموں کو ختم کر دیا ہے۔‘
واشنگٹن میں قائم چینی سفارت خانے نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
کئی دہائیوں پر محیط نگرانی اور تحقیقات
پینٹاگون کا یہ اقدام امریکی حکومت کی مختلف ایجنسیوں کی جانب سے چینی حکومت کے حمایت یافتہ زبان اور ثقافت کے ان مراکز کے خلاف جاری مہم کا تازہ مرحلہ ہے۔
یہ مہم خاص طور پر13  اگست 2020 کو زور پکڑ گئی، جب امریکی محکمہ خارجہ نے واشنگٹن میں قائم کنفیوشس انسٹیٹیوٹ یو ایس سینٹر کو عوامی جمہوریہ چین کا ایک غیر ملکی مشن قرار دے دیا۔
اس وقت محکمہ خارجہ نے مراکز کے غیر شفاف ڈھانچے اور ریاستی ہدایات کے تحت کام کرنے کی نشاندہی کی اور اسے اپنے عملے، بھرتیوں، فنڈنگ اور امریکہ میں اپنی سرگرمیوں کی باقاعدہ رپورٹیں جمع کروانے کا پابند بنایا۔

ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ کنفیوشس انسٹیٹیوٹس اور میزبان جامعات کے درمیان ہونے والے معاہدے اکثر خفیہ رکھے جاتے تھے (فوٹو: گلوبل ٹائمز)

محکمہ خارجہ کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق، کنفیوشس انسٹیٹیوٹس ماضی میں ہان بان نامی ادارے کے زیر انتظام تھے، جو چین کی وزارت تعلیم سے وابستہ تھا، اور ان کی سرگرمیاں چینی کمیونسٹ پارٹی کے یونائیٹڈ فرنٹ ورک ڈیپارٹمنٹ کی نگرانی اور سیاسی رہنمائی میں انجام پاتی تھیں۔
امریکی حکام نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 2009 میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی پولیٹ بیورو قائمہ کمیٹی کے رکن لی چانگ چون نے کنفیوشس انسٹیٹیوٹس کو ’چین کے بیرون ملک پروپیگنڈا نظام کا ایک اہم حصہ‘ قرار دیا تھا۔
تعلیمی آزادی، سنسرشپ اور مقامی اثر و رسوخ
امریکی وفاقی اداروں کی جانب سے کنفیوشس انسٹیٹیوٹس پر تنقید کا مرکز سنسرشپ، دانشورانہ املاک کے خطرات اور امریکی تعلیمی نظام پر غیر ملکی اثر و رسوخ کے خدشات رہے ہیں۔
سیلف سنسرشپ اور نصاب پر کنٹرول
2017 میں نیشنل ایسوسی ایشن آف سکالرز کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ کنفیوشس انسٹیٹیوٹس اور میزبان جامعات کے درمیان ہونے والے معاہدے اکثر خفیہ رکھے جاتے تھے، جامعات کو بیجنگ پر تنقید سے گریز کرنے کے لیے مالی مراعات دی جاتی تھیں، اور نصابی مواد میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے حساس تاریخی موضوعات کو نظر انداز کیا جاتا تھا۔
میزبان اداروں پر براہ راست دباؤ
2018  میں ساوانا سٹیٹ یونیورسٹی میں ایک مقررہ مہمان کے تعارف سے تائیوان کا حوالہ یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے شریک ڈائریکٹر کی واضح درخواست پر حذف کر دیا گیا تھا۔

محکمہ خارجہ کی جانب سے غیر ملکی مشن قرار دیے جانے کے بعد، امریکہ کی متعدد جامعات نے اپنے کنفیوشس انسٹیٹیوٹس بند کر دیے (فوٹو: اے پی)

عوامی مباحثے پر اثرات
2019  میں یونیورسٹی کالج ڈبلن کے محققین کی ایک تحقیق، جس کا حوالہ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی دیا، سے معلوم ہوا کہ کسی علاقے میں کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے قیام کے بعد مقامی میڈیا کی رپورٹنگ میں شماریاتی طور پر بیجنگ کے حق میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی۔
اساتذہ کی جانب سے انتباہات
2014 ہی میں امریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی پروفیسرز نے باضابطہ طور پر خبردار کیا تھا کہ یہ ادارے بیجنگ کے سیاسی ایجنڈے کو فروغ دیتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی خودمختاری اور علمی دیانت داری کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
2020 میں جب وفاقی نگرانی اپنے عروج پر تھی، اس وقت امریکہ میں75 کنفیوشس انسٹیٹیوٹس فعال تھے، جن میں سے65  براہ راست جامعات کے کیمپسز میں قائم تھے۔ اس کے علاوہ تقریباً500  کنفیوشس کلاس رومز سکولوں کے نظام میں موجود تھے۔
محکمہ خارجہ کی جانب سے غیر ملکی مشن قرار دیے جانے کے بعد، امریکہ کی متعدد جامعات نے اپنے کنفیوشس انسٹیٹیوٹس بند کر دیے۔ اسی طرح سویڈن، جرمنی اور انڈیا میں بھی ایسے مراکز کی بندش یا ان پر پابندیاں عائد کرنے کے اقدامات دیکھنے میں آئے۔

 

شیئر: