فرانس میں پُرتشدد مظاہرے، ’آنے والا ویک اینڈ مزید بدتر ہو سکتا ہے‘
فرانس میں پُرتشدد مظاہرے، ’آنے والا ویک اینڈ مزید بدتر ہو سکتا ہے‘
پیر 26 اکتوبر 2026 12:27
گزرے ویک اینڈ پر پیرس سمیت کئی شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے (فوٹو: اے پی)
فرانس میں طلبہ کا احتجاج اور حکومت مخالف مظاہروں کی لہر جاری ہے جبکہ وزیر داخلہ لوراں نونیز نے آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پچھلے ویک اینڈ پر ملک میں شدید مظاہرے دیکھنے میں آئے اور پولیس اور مظاہرین کے جھڑپیں بھی ہوئیں۔
اس حوالے سے جب بی ایم ایف ٹی وی کے ایک پروگرام میں وزیر داخلہ لوراں نونیز سے پوچھا گیا کہ آنے والے سنیچر پر بھی ایسی صورت حال پیدا ہونے کے امکانات موجود ہیں تو ان کا کہنا تھا، ہاں ایسا ہونے کے واضح خدشات موجود ہیں۔
انہوں نے ایسی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے، لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے سلسلے کو روکنے کے لیے مختلف علاقوں میں لگائے گئے کرفیو کے برقرار رہنے کا امکان بھی ظاہر کیا۔
پچھلے ویک اینڈ پر لاکھوں افراد نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی اگرچہ زیادہ تر ریلیاں پرامن رہیں تاہم رات ہوتے ہی پیرس اور مارسیلیا میں جھڑپیں شروع ہو گئیں، اس ضمن میں حکومت کی جانب سے وسیع سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ ملک بھر میں چار لاکھ 10 ہزار افراد نے احتجاج میں حصہ لیا جبکہ مزدور یونینز کا کہنا تھا کہ حقیقی تعداد اس سے دگنی تھی۔
ویک اینڈ پر ہونے والے مظاہروں میں چار لاکھ سے زائد لوگوں نے شرکت کی (فوٹو: اے ایف پی)
مرکزی مظاہرہ پیرس کے جنوب مشرقی مضافاتی علاقے میں ہوا جہاں کم از کم ایک لاکھ 10 ہزار افراد نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عدم مساوات کے خلاف احتجاج کیا۔
ریلی کے اختتام کے بعد صورتحال تیزی سے خراب ہو گئی۔ فسادات پر قابو پانے والی پولیس نے تقریباً 500 نقاب پوش نوجوانوں کے ایک گروہ پر آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا جس کے بعد سرد اور بارش بھری شام میں وہ منتشر ہو گئے۔
فرانس کے دوسرے بڑے شہر مارسیلیا میں نوجوانوں نے سڑکیں بند کرنے کے لیے کوڑے دانوں کو آگ لگا دی اور سکیورٹی فورسز پر پتھر اور بوتلیں پھینکیں۔ پولیس کے مطابق دو جیولری شاپس سمیت کئی دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی۔
لیون، بوردو، گرینوبل، کلیرمون فرون، لیل، رین، نانت اور تولوز میں بھی جھڑپیں ہوئیں۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ ’تقریباً ہر مارچ میں ہم نے ان پرخطر گروہوں کو بنتے دیکھا۔ یہ مرکزی ہجوم سے الگ ہو جاتے تھے اور پرتشدد کارروائیاں کرنے کی کوشش کرتے تھے۔‘ انہوں نے انتہائی بائیں بازو کے کارکنوں اور جرائم پیشہ گروہوں پر بدامنی پھیلانے کی کوشش کا الزام لگایا۔
احتجاج کے دوران لوٹ مار کے واقعات بھی ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)
حکام نے 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جو ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں 10 ہزار زیادہ تھے، کیونکہ حکام نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے 17 اکتوبر کی بدامنی کی شدت کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا۔
مرکزی پیرس ایک بند شہر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ دکانداروں نے اپنی دکانوں کے سامنے حفاظتی تختے لگا دیے تھے، عجائب گھر بند کر دیے گئے تھے اور 20 سے زائد میٹرو سٹیشنز بھی بند تھے۔
ملک گیر بدامنی کا آغاز گزشتہ ماہ پیرس کے مضافاتی علاقوں میں طلبہ کے چھوٹے مظاہروں سے ہوا تھا جن میں تعلیمی حالات کے خلاف آواز اٹھائی گئی تھی۔ بعد میں یہ احتجاج حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف ایک وسیع تحریک میں تبدیل ہو گیا اور ہمسایہ ممالک میں بھی اسی نوعیت کے مظاہروں کا باعث بنا۔