فرانس میں احتجاج کی نئی لہر کے خدشات، کمپنیاں اور عجائب گھر بند رکھنے کا فیصلہ
فرانس میں احتجاج کی نئی لہر کے خدشات، کمپنیاں اور عجائب گھر بند رکھنے کا فیصلہ
جمعہ 23 اکتوبر 2026 16:37
گزشتہ ہفتے ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
فرانس میں مختلف کمپنیاں، ثقافتی تقریبات کے منتظمین اور عجائب گھروں نے ہفتے کے آغاز میں اپنی سرگرمیاں انجام نہ دینے کا منصوبہ بنایا ہے، حالاں کہ حکومت نے مظاہروں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ صدر ایمانوئل میکخواں ملک بھر میں ایک ہفتے سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد صورتِ حال کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ مظاہرے تشدد کی شکل اختیار کر گئے تھے۔
فرانس کی قومی طلبہ یونین (یونیف)نے آج اجتماعات منعقد کرنے کی اپیل کی ہے، جب کہ ییلو ویسٹ تحریک نے اسی ہفتے پیرس کے وسطی علاقے میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے درخواست جمع کرائی ہے، یہ تحریک روایتی اداروں کے خلاف ہے اور سال 2018 میں نمایاں ہوئی تھی۔
یہ پرُتشدد احتجاجی مظاہرے گزشتہ ماہ ہائی سکول کے طلبہ کی جانب سے شروع کیے گئے احتجاج کے بعد شروع ہوئے تھے۔ طلبہ اساتذہ کی کمی اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں اور سہولیات کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
طلبہ یونین نے ای میل کے ذریعے بھیجے گئے ایک بیان میں کہا کہ ‘ایمانوئل میکخوان ہمارے ملک میں احتجاج کرنے کی آزادی کو کچل رہے ہیں اور اُن اقدار کی توہین کر رہے ہیں جن کے دفاع کا وہ دعویٰ کرتے ہیں، حالاں کہ وہ خود اِن پر تھوکتے ہیں۔‘
فرانس اب بھی گزشتہ کئی برسوں کے بدترین تشدد کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے بڑے پیمانے کے مظاہروں کے دوران ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے تھے۔
حکام نے پیرس کے بعض علاقوں اور دیگر شہروں میں رات کے وقت کرفیو نافذ کر دیا تھا، جو بعد ازاں کسی بڑے ناخوش گوار واقعے کے بغیر گزر گیا۔ ایمانوئل میکخواں نے بدامنی کا الزام ’اشتعال انگیزی کرنے والے انتہائی بائیں بازو کے گروہوں‘ پر عائد کیا، تاہم بائیں بازو کی معروف جماعت لا فرانس اَنسومیز نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔
صدر نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ آنے والے دنوں میں ’غیر قانونی‘ مظاہروں پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ٹریڈ یونینوں کی طرح کے اداروں کے زیرِ اہتمام مظاہروں کی اجازت ہوگی، البتہ اُن کے طے شدہ راستوں کو تبدیل کرکے اِنہیں متبادل سڑکوں کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔
مزدور، طلبہ اور دیگر شہری سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اِن کا مطالبہ ہے کہ اُجرتوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ عوام کو روزمرہ اخراجات میں مسلسل اضافے کا مقابلہ کرنے میں مدد مل سکے۔
فرانس اب بھی گزشتہ کئی برسوں کے بدترین تشدد کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ عوام کے اِن خدشات کو سمجھتی ہے، لیکن قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت کو محدود رکھنے کے لیے سرکاری اخراجات کو قابو میں رکھنا ضروری ہے۔
مقامی حکام نے بتایا ہے کہ فرانس کے دوسرے اور تیسرے بڑے شہروں مارسی اور لیون میں سنیچر کو ہونے والے تمام مجوزہ احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اِن پابندیوں اور وزیرِ انصاف کے اس بیان کے باوجود کہ گزشتہ سنیچر کے روز سے اب تک تقریباً 27 سو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، کمپنیاں، ادارے اور تقریبات کے منتظمین مزید بدامنی کے خدشے کے پیشِ نظر اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
مارسی کے ایوانِ تجارت نے کاروباری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ سنیچر کو بند رہیں۔ دوسری طرف آرٹ بیسل پیرس کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ وہ سنیچر کو بند رہیں گے۔ لوورِ میوزیم اور لوئی ویتوں فاؤنڈیشن بھی اس دوران بند رہے گی۔