Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فرانس سے البانیہ تک، عوامی بے چینی یورپ کی سڑکوں کو دہکانے لگی

یورپ میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، سکولوں کی خراب صورتحال، سرکاری سہولتوں میں کمی اور گھروں کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق فرانس، اٹلی اور البانیہ کے بڑے شہروں میں کئی ہفتے سے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بعض مقامات پر گرفتاریاں، لوٹ مار اور تشدد کے واقعات بھی ہوئے۔ سپین اور پرتگال میں مہنگے گھروں کے خلاف احتجاج کے لیے لوگوں نے سڑکوں پر خیمے لگا رکھے ہیں۔
اس حوالے سے سپین کی ڈیوسٹو یونیورسٹی کی پروفیسر ماریا سلویسٹر کہتی ہیں کہ یورپ کے نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے یقینی بڑھ رہی ہے اور جب کئی مسائل ایک ساتھ سامنے آتے ہیں تو لوگوں کی بے چینی احتجاج کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
یورپ کی بڑی معیشتیں سمجھنے جانے والے فرانس، اٹلی اور سپین سمیت دوسرے ممالک میں اہم انتخابات قریب آ رہے ہیں، جرمنی میں دائیں بازو کی جماعت کو کامیابی ملی ہے اور دوسرے ممالک میں بھی دائیں بازو کی حمایت بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب یوکرین کی حمایت کے معاملے پر بھی یورپ ایک اہم دور سے گزر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرم، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے رابطے بڑھا رہے ہیں جبکہ روس پر نیٹو ممالک میں سائبر حملوں اور تخریبی کارروائیوں میں اضافے کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔
دائیں بازو کے سیاست دانوں نے ان مظاہروں اور بدامنی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ فرانس پر تارکین وطن کا قبضہ ہو گیا ہے اور اسے سرحدیں فوری طور پر بند کر دینی چاہییں۔
زیادہ تر مظاہروں میں نوجوان شریک ہیں جبکہ سیاہ لباس اور ماسک پہنے افراد پر تشدد کرنے کے الزام لگ رہے ہیں تاہم
تاہم فرانسیسی حکام اور پولیس نے ان واقعات کا ذمہ دار تارکین وطن کو قرار نہیں دیا۔

پرتگال میں گھروں کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

’تعلیمی سہولتیں کم ہو رہی ہیں‘

فرانس میں ہائی سکول کے طلبہ تین ہفتوں سے زائد عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ سکولوں کے لیے مزید وسائل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر غریب علاقوں کے سکولوں میں اساتذہ کی کمی ہے اور عمارتوں کی حالت بھی خراب ہے۔
بعدازاں مزدور تنظیمیں اور دیگر کارکن بھی احتجاج میں شامل ہو گئے اور اب مہنگائی اور سرکاری سہولتوں میں کمی کے خلاف بھی آواز اٹھائی جا رہی ہے۔
فرانس میں لاکھوں افراد نے پُرامن مظاہرے کیے تاہم اتوار کو کئی شہروں میں بدامنی پھیلتی دیکھی گئی۔ اس دوران قریبا دو ہزار چار سو افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پیرس، مارسی، لیون اور بوردو میں لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔
شہر لیموج میں 19 ویں صدی کی سٹی ہال کی عمارت کو آگ لگائی گئی، صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس استعمال کی اور ان واقعات میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے۔
فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں نے پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی اور الزام لگایا کہ انتہائی بائیں بازو کے کارکن عمارتوں اور پولیس پر حملے کرکے ملک میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔

سپین میں مظاہرین نے سڑکوں پر خیمے لگا رکھے ہیں (فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے اتوار کو قوم سے خطاب میں کہا کہ لوٹ مار کرنے والوں کو نقصان کا ازالہ کرنا ہوگا، جبکہ جمہوری نظام کو گرانے کی کوشش کرنے والوں کو بھی جواب دینا پڑے گا۔
سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں بھی پچھلے ہفتے سے پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کے اساتذہ نے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ وہ تنخواہوں میں اضافے اور کام کے بہتر حالات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

میڈرڈ میں سڑکوں پر لگے خیمے

سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے مرکزی علاقے پوئرتا ڈیل سول میں کئی ہفتوں سے خیمے لگا کر گھروں کے بڑھتے کرایوں کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ احتجاج کا آغاز 87 سالہ خاتون ماریا ڈیل کارمین اباسکال کو گھر سے نکالے جانے کے بعد ہوا تھا۔ بعد میں خاتون ہسپتال میں انتقال کر گئی تھیں، اسی طرح سپین کے دوسرے شہروں میں بھی احتجاج شروع ہو گیا ہے۔

پرتگال میں بھی بے چینی

اسی طرح پرتگال کے بڑے شہروں لزبن اور پورٹو جبکہ سپین کے شہر بارسلونا میں بھی گھروں کی بڑھتی قیمتوں اور کرایوں کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بارسلونا میں سیاحوں کی بڑھتی تعداد بھی رہائش کے مسائل کی ایک وجہ ہے۔
سپین میں سپین میں کم از کم ماہانہ تنخواہ ایک ہزار دو سو 21 یورو ہے جبکہ 80 مربع میٹر کے فلیٹ کا اوسط ماہانہ کرایہ قریباً ایک ہزار ایک سو 30 یور ہے۔

البانیہ اور سربیا میں بھی احتجاجی تحریک چل رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اٹلی میں بھی ملتی جلتی صورت حال

اٹلی میں ’اٹالیا اِن پیاتسا‘ نامی تحریک چل رہی ہے جس کا مطلب ہے ’اٹلی سڑکوں پر‘، اس میں ہزاروں لوگ شریک ہو رہے ہیں اور بہتر روزگار، صحت، تعلیم، سستے گھروں اور زیادہ تنخواہوں کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

البانیہ اور سربیا میں کرپشن کے خلاف تحریک 

البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں حکومت کے خلاف ایک ہفتے سے زائد عرصے سے مظاہرے جاری ہیں اور ہائی سکول اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی ان میں شامل ہو گئے ہیں۔
احتجاج میں وزیراعظم ایڈی راما کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح سربیا میں یونیورسٹی کے طلبہ قریباً دو سال سے بدعنوانی کے خلاف بڑے مظاہروں کا سلسلہ چلا رہے ہیں اور وہاں بھی انتخابات قریب ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صورت حال یورپ بھر میں ہونے والے انتخابات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

شیئر: