ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ’اصل ٹارگٹ عامر خان تھے‘
ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ’اصل ٹارگٹ عامر خان تھے‘
پیر 26 اکتوبر 2026 8:24
مرکزی ملزموں کو 19 اکتوبر کو راجستھان کے شہر کوٹا میں ٹرین میں سفر کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ (فوٹو: ٹریبیون انڈیا)
بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کرنے والے ملزموں نے انکشاف کیا ہے کہ اصل ٹارگٹ عامر خان تھے مگر سکیورٹی کی وجہ سے ان تک نہ پہنچ پانے پر ہدف تبدیل کیا۔
پولیس سورسز پر مشتمل دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزموں کو عامر خان کو نشانہ بنانے کا حکم دیا گیا تھا جس کے بعد وہ ایک ماہ تک ممبئی میں رہے اور کم سے کم تین بار عامر خان کے گھر کی نگرانی کی۔
ملزموں کا کہنا ہے کہ نگرانی پر انہیں معلوم ہوا کہ عامر خان شوٹنگ کے لیے نکلنے پر کئی روز تک باہر رہتے یا پھر کئی دنوں تک گھر کے اندر ہی رہتے۔
ملزموں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے ٹائیگر شروف کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کی وجہ یہ تھی کہ ان کو ٹارگٹ بنانا نسبتاً آسان سمجھا گیا کیونکہ وہ ہر اتوار کو ممبئی کے علاقے جوہو کے ایک پارک میں فٹ بال کھیلنے جاتے ہیں اور 18 اکتوبر کو اسی مقام پر ان پر فائرنگ کی گئی۔
پولیس کا ذرائع کا کہنا ہے کہ عامر خان کو نشانہ بنانے کا مبینہ منصوبہ جولائی میں انہیں ملنے والی دھمکیوں سے بھی جڑا ہو سکتا ہے۔ یہ دھمکیاں مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے دی گئی تھیں۔
ٹائیگر شروف کی گاڑی پر 18 اکتوبر کو فائرنگ کی گئی تھی (فوٹو: انڈین میڈیا)
ممبئی پولیس ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اس واقعے میں اداکار کو زیادہ چوٹ نہیں آئی تاہم ان کا ڈرائیور اور ایک راہ گیر زخمی ہو گئے تھے۔
’حملہ آروں کو مسلسل معلومات مل رہی تھیں‘
پولیس ذرائع نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ٹائیگر شروف پر فائرنگ کرنے والوں کو میڈیا کوریج اور ایپس کے بارے میں مسلسل معلومات مل رہی تھیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ جب ٹی وی چینلز پر حملے کی ویڈیوز نشر ہوئیں تو ایک ملزم کو فوری پیغام موصول ہوا ’تمہارے چہرے سامنے آ گئے ہیں، فوری طور پر وہاں سے نکلو۔‘
تینوں ملزموں پھول سنگھ، ریحان رئیس الدین انصاری اور ہریتک عرف روشن کو 19 اکتوبر کو راجستھان کے شہر کوٹا میں ٹرین میں سفر کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
کرائم برانچ کے ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل شواہد سے ظاہر ہوا کہ ریحان انٹرنیٹ پر چلنے والی ایپس، جن میں سگنل اور زانگی شامل ہیں، کے ذریعے دوسروں سے مسلسل رابطے میں تھا۔ ان ایپس پر موبائل نمبر کے بغیر بھی اکاؤنٹ بنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد سے اب تک مرکزی ملزموں سمیت 11 سہولت کار گرفتار کیے جا چکے ہیں (فوٹو: دی ہندو)
’فرار کے دوران بار بار سواری تبدیل کی گئی
رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ملزموں کے مبینہ سہولت کار انہیں میڈیا کے ذریعے موٹر سائیکل برآمد ہونے اور ان کے ٹرین میں سفر کرنے سے متعلق خبریں پہنچاتے رہے۔
اس دوران تینوں نے بار بار سفر کا ذریعہ تبدیل کیا وہ موٹر سائیکل، ٹرین اور ٹیکسی کے ذریعے سفر کرتے رہے اور بعد میں سورٹ سے بس میں سوار ہونے کا منصوبہ بنایا تھا۔
تاہم، سورٹ کے بس اڈے پر تاخیر کے باعث وہ دوسری ٹرین میں سوار ہو گئے جہاں ممبئی پولیس کی اطلاع پر کوٹا پولیس نے انہیں گرفتار کیا۔
ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ 18 اکتوبر کی شام ممبئی کے علاقے جوہو میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق، کم از کم دو افراد نے اداکار کی گاڑی پر متعدد گولیاں چلائیں اور پھر موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے۔ ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران پانچ سے چھ گولیاں چلائی گئیں۔
واقعے میں استعمال ہونے والی مبینہ موٹر سائیکل بعد میں اندھیری کے علاقے سے ملی تھی۔
واقعے کے بعد سے اب 11 افراد کو راجستھان، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور ہریانہ سے گرفتار کیا گیا ہے جن کا واقعے سے کسی نہ کسی طور تعلق نکلتا ہے۔
ممبئی پولیس کی جانب سے گینگسٹر انیل پنڈت کو اس کیس میں مطلوب ملزم قرار دیا گیا ہے جو کہ بشنوئی گینگ سے وابستہ ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امریکہ میں ہے۔
انیل پنڈت نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے واقعے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔