Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایبولا وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر مملکت میں حفاظتی اقدامات سخت

کینیا جانے اور مملکت آنے والے مسافروں پر پابندی عائد کردی گئی (فوٹو: ایکس)
ایبولا وائرس کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے مملکت کی جانب سے احتیاطی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔
صحت اداروں نے وبائی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی سفارش کی تھی۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وائرس سے بچاؤ کے لیے اختیار کیے جانے والے نئے اقدامات کے تحت سعودی شہریوں کے جمہوریہ کینیا کے سفر پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ کینیا سے آنے والے افراد کے لیے تمام اقسام کے ویزوں کا اجرا بھی عارضی طور پر بند کرتے ہوئے ان کے مملکت میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
مملکت میں داخلے کی پابندی کا اطلاق ان مسافروں پر بھی ہوگا جو کسی تیسرے ملک کے راستے سعودی عرب آنا چاہتے ہیں، لیکن آمد سے قبل گزشتہ 21 روز کے دوران وہ کینیا یا ان ممالک میں قیام کرچکے ہوں جہاں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دریں اثنا صحتِ عامہ اتھارٹی ’وقایہ‘ نے اس بات کی یقین دہانی کی ہے کہ مملکت میں صحت کی صورتحال اطمینان بخش ہے۔ اس حوالے سے جامع طریقے سے نگرانی کا عمل جاری ہے۔
ادارے کا مزید کہنا تھا کہ علاقائی اور عالمی سطح پر وبائی صورتحال میں ہونے والی تازہ پیش رفت پر نظر رکھی جا رہی ہے، اس ضمن میں اندرون و بیرون ملک متعلقہ اداروں کے ساتھ روابط بھی جاری ہیں۔
اس حوالے سے سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ اقدامات ان احتیاطی تدابیر کا تسلسل ہیں جن کا آغاز مملکت نے جولائی 2019 میں کیا تھا، جبکہ مئی 2026 میں ایبولا کے پھیلاؤ کے خطرے سے دوچار ممالک سے آنے والے افراد کے حوالے سے ان اقدامات کو مزید موثر بنایا گیا۔
اس سے قبل مملکت نے جون 2026 میں جمہوریہ کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان سے شہریوں کے سفر اور ان ممالک سے مملکت آنے والوں پر پابندی عائد کی تھی۔
وائرس کے پھیلاؤ والے علاقوں سے ملحق ممالک سے آنے والے افراد کے لیے بھی حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے گئے تھے، جن میں داخلی راستوں پر طبی معائنہ، وبائی صورتحال کی نگرانی اور فوری طبی ردعمل کے نظام کو فعال کرنا شامل ہے۔

 

شیئر: