عالمی ادارۂ صحت نے 17 مئی کو جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو ’بین الاقوامی تشویش کی حامل صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتِ حال‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس اس کے پڑوسی ممالک تک پھیلنے کا شدید خطرہ موجود ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس انتباہ کے بعد مختلف حکومتوں نے سفر کے حوالے سے احتیاطی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ ذیل میں مختلف ممالک کی جانب سے اعلان کردہ سکریننگ اقدامات، سفری پابندیوں اور ایئرلائنز کی تدابیر کی فہرست پیش کی جا رہی ہے۔
مختلف ممالک کی جانب سے عائد کی گئی سفری پابندیاں
امریکہ
امریکہ نے 13 جولائی کو اعلان کیا کہ وہ جمہوریہ کانگو میں موجود امریکی شہریوں کی کمرشل پروازوں کے ذریعے وطن واپسی روک رہا ہے۔ حالیہ مسافروں کو ’ڈو ناٹ بورڈ‘ فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے، اور انہیں کسی تیسرے ملک میں کم از کم 21 دن گزارنے کے بعد ہی امریکہ آنے کی اجازت ہوگی۔
مزید پڑھیں
علاوہ ازیں، امریکہ نے ان غیر ملکی افراد کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے جو جمہوریہ کانگو، یوگنڈا یا جنوبی سوڈان کا سفر کر چکے ہوں۔
کینیڈا
کینیڈین حکومت نے 26 مئی کو اعلان کیا کہ جمہوریہ کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان سے آنے والے افراد کے 27 مئی سے کینیڈا میں داخلے پر 90 دن کے لیے پابندی عائد ہوگی۔
اُردن
اُردن کے سرکاری خبر رساں ادارے نے کہا ہے کہ اُردن کی حکومت نے 19 مئی کو جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا سے آنے والے مسافروں کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
بحرین
بحرین نے 19 مئی کو اعلان کیا کہ جنوبی سوڈان، جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا سے آنے والے غیر ملکی مسافروں کے داخلے پر 30 دن کے لیے پابندی عائد کی جا رہی ہے۔
سکریننگ اور قرنطینہ اقدامات
انڈیا
انڈیا نے ہوائی اڈوں اور دیگر داخلی مقامات پر سکریننگ اور نگرانی کے لیے اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں، احتیاطی تدابیر سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں، اور شہریوں کو جمہوریہ کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
تھائی لینڈ
تھائی لینڈ کی وزارتِ صحت کے مطابق 27 مئی سے جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا سے آنے والے مسافروں کو صرف سووارنا بھومی ایئرپورٹ کے ذریعے ہی ملک میں داخلے کی اجازت ہوگی، جہاں ان کی سکریننگ کی جائے گی۔

ان ممالک سے آنے یا ان کے راستے سفر کرنے والے مسافروں میں اگر علامات ظاہر نہیں ہوتیں تو انہیں کم از کم 21 دن قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ جبکہ ان میں اگر ایبولا وائرس سے مطابقت رکھنے والی علامات پائی گئیں تو انہیں کم از کم 21 دن کے لیے علیحدگی (آئیسولیشن) میں رکھا جائے گا۔
کینیا
کینیا کی وزارتِ صحت نے 25 مئی کو کہا کہ اس نے زیادہ خطرے والے داخلی مقامات پر مسافروں کی سکریننگ مزید سخت کر دی ہے۔
زیمبیا
زیمبیا نے ایبولا وائرس کے پھیلائو کے خدشات کے پیشِ نظر اور خاص طور پر حکام کی جانب سے دو مشتبہ کیسز مسترد کرنے کے بعد سکریننگ اور نگرانی کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
وہ ممالک جو پابندیوں کے خلاف ہیں
یورپی یونین
یورپی یونین کی ہیلتھ سکیورٹی کمیٹی نے 22 مئی کو کہا کہ ’جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا سے آنے والے مسافروں کی داخلے کے وقت سکریننگ ضروری نہیں، کیونکہ عوام کے لیے خطرہ کم ہے۔‘
9 جون کو امریکی حکومت نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ ’وہ واشنگٹن کی پیروی کرتے ہوئے اُن مسافروں پر سفری پابندیاں عائد کریں جو حال ہی میں وسطی افریقہ کے ان ممالک میں گئے ہوں جہاں ایبولا پھیل رہا ہے، تاکہ فٹبال ورلڈ کپ کے دوران وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔‘
یورپی کمیشن کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ سرحدی سطح پر اضافی اقدامات کرنے کی کوئی ضرورت ہے۔‘
ایئرلائنز کا ردِعمل
کے ایل ایم ایئرلائن
ڈچ ایئرلائن کے ایل ایم نے 29 مئی کو اعلان کیا کہ اس نے یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا کے قریب واقع اینٹیبے ایئرپورٹ آنے جانے والی اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ اس کی وجہ وسطی افریقہ میں ایبولا کے پھیلاؤ سے متعلق پابندیاں ہیں۔

ایئرلائن کے مطابق وہ اپنی طے شدہ پروازیں اس لیے جاری نہیں رکھ سکتی کیونکہ کچھ ممالک نے اینٹیبے ایئرپورٹ کے ذریعے سفر کرنے والے افراد، بشمول عملے، پر سفری اور ملک میں داخل ہونے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
برسلز ایئرلائنز
برسلز ایئرلائنز نے یکم جون کو کہا کہ ایبولا کی صورتِ حال نے اس کے فلائٹ شیڈول کو متاثر نہیں کیا، تاہم اس نے اپنے طویل فاصلے کے عملے کے ڈیوٹی شیڈول میں تبدیلی کی ہے، کیونکہ وہ عملہ جس نے گزشتہ 21 دنوں میں جمہوریہ کانگو یا یوگنڈا کا سفر کیا ہو، اسے امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔












