Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل میں انتخابات: اکثریت نہ ملنے پر نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے پاس کیا آپشنز باقی ہیں؟

اگر دونوں میں سے کوئی بھی حکومتی اتحاد بنانے میں کامیاب نہ ہوا تو ملک کو دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انتخابات میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے بڑے حریف گاڈی آئزنکوٹ دونوں واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، لیکن دونوں نے حکومت بنانے کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ کسی نے بھی یہ نہیں بتایا کہ وہ ایسا کیسے کریں گے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق غیر فیصلہ کن نتائج کے بعد دونوں رہنماؤں کو حکومت بنانے کے لیے اپنے اپنے سیاسی اتحاد کو وسعت دینا ہوگی، تاہم پس پردہ ممکنہ مذاکرات کے بارے میں تاحال بہت کم معلومات سامنے آئی ہیں۔
اگر دونوں میں سے کوئی بھی حکومتی اتحاد بنانے میں کامیاب نہ ہوا تو ملک کو دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔
نیتن یاہو کی قیادت میں حکومت کے امکان پر نظر ڈالیں تو ان کے انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسند مذہبی اتحادی انتخابی نتائج میں سب سے آگے رہے۔ ان کے اتحاد نے پارلیمان میں 53 نشستیں حاصل کیں، جن میں سے 27 نشستیں نیتن یاہو کی جماعت لیکود کے حصے میں آئیں۔
تاہم حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے وہ اب بھی آٹھ نشستیں کم ہیں۔
اقتدار میں رہنے کے لیے نیتن یاہو کو اپوزیشن جماعتوں کو اپنی حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کرنا ہوگی، حالانکہ اپنی انتخابی مہم میں یہی جماعتیں انہیں اقتدار سے ہٹانے کے وعدے کر رہی تھیں۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ، جن پر حکومت سازی کے لیے موزوں ترین امیدوار کو نامزد کرنے کی ذمہ داری ہے، کہہ چکے ہیں کہ نئے انتخابات سے ہر صورت بچنا چاہیے۔
آئیزنکوٹ کے اتحاد میں شامل بائیں بازو کی جماعت ڈیموکریٹس، جس کے پاس آٹھ نشستیں ہیں، نیتن یاہو کی کسی بھی پیشکش کو قبول کرنے کے لیے سب سے کم آمادہ سمجھی جا رہی ہے۔

آئیزنکوٹ کی جماعت یشار، جس کے پاس 21 نشستیں ہیں، کے ساتھ اتحاد کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

سابق اتحادی اور موجودہ ناقد ایویگڈور لیبرمین کی جماعت اسرائیل بیتینو، جس نے سات نشستیں حاصل کی ہیں، بھی نیتن یاہو کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد کرتی دکھائی دیتی ہے۔ لیبرمین کا کہنا ہے کہ واحد قابلِ تصور اتحاد وہ ہے جس میں نیتن یاہو شامل نہ ہوں۔
دوسری جانب نفتالی بینیٹ کی مرکز نواز جماعت ’ٹوگیدر‘، جس نے 12 نشستیں حاصل کیں، ایک ممکنہ ہدف ہو سکتی ہے۔ اگرچہ بینیٹ نے ابتدا میں بعض شرائط کے ساتھ نیتن یاہو کے اتحاد سے تعاون کے امکان کا عندیہ دیا تھا، لیکن بعد میں انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت کی۔
آئیزنکوٹ کی جماعت یشار، جس کے پاس 21 نشستیں ہیں، کے ساتھ اتحاد کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے کیونکہ سابق جنرل نے اپنی پوری انتخابی مہم نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے وعدے پر چلائی تھی۔
دوسری طرف آئیزنکوٹ کا اتحاد 48 نشستوں کے ساتھ پارلیمان میں موجود ہے۔ چونکہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ اقتدار کی شراکت کو مسترد کر چکے ہیں، اس لیے ان کے پاس دو راستے ہیں: یا تو وہ اقلیتی حکومت بنائیں یا پھر عرب جماعتوں اور مخالف اتحاد کے منحرف ارکان کی حمایت حاصل کریں۔
عرب اکثریتی دو اتحاد، رام اور جوائنٹ لسٹ، بالترتیب آٹھ اور گیارہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اگر یہ دونوں جماعتیں آئیزنکوٹ کی حمایت کرتی ہیں تو انہیں حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ تعداد حاصل ہو سکتی ہے۔

موجودہ پارلیمانی صورتحال میں دونوں رہنماؤں کو مشکل سیاسی فیصلے کرنا ہوں گے (فوٹو: اے ایف پی)

تاہم عرب جماعتوں پر انحصار کرنے کا مطلب انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹنا ہوگا اور ایسی کمزور اقلیتی حکومت بنانا ہوگی جس کے طویل عرصے تک قائم رہنے کے امکانات محدود سمجھے جاتے ہیں۔
آئیزنکوٹ نیتن یاہو کے اتحاد میں شامل بعض قدامت پسند مذہبی جماعتوں کو بھی اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ جماعتیں مجموعی طور پر 13 نشستیں رکھتی ہیں اور سیاسی مفاہمت کی صورت میں ان کا مؤقف تبدیل ہو سکتا ہے۔
موجودہ پارلیمانی صورتحال میں دونوں رہنماؤں کو مشکل سیاسی فیصلے کرنا ہوں گے، کیونکہ کوئی بھی فریق تنہا حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔

 

شیئر: