جاپان نے بے بی روبوٹ تیار کرلیا

 ٹوکیو....معروف آٹوموبل کمپنی ٹویوٹا نے اعلان کیا ہے کہ ایک ہتھیلی کی سائز جتنا باتیں کرنے والا روبوٹ آئندہ سال سے فروخت کیا جائے گا۔ کمپنی نے بتایا کہ10 سینٹی میٹر کے قد کا ”کیروبو مینی“ نامی روبوٹ گپ شپ کےلئے تیار کیا ہے۔ یہ روبوٹ اپنے مالک کی گاڑی سے معلومات حاصل کرکے سفر کے بارے میں بات کر سکتا ہے۔ اس روبوٹ میں بچوں جیسی خصوصیات بھی ہیں لیکن روبوٹ کے شعبے سے منسلک ایک ماہر نے بتایا کہ روبوٹ کبھی بھی بچے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ کیروبو مینی کے سربراہ ڈیزائنر فومینوری ککاو¿ٹا نے بتایا کہ یہ قدرے ڈگمگاتا ہے اور یہ بیٹھے ہوئے بچے کی نقل میں تیار کیا گیا ہے جسے ابھی پوری طرح سے بیٹھنا نہیں آیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ روبوٹ میں یہ کمی لوگوں میں جذباتی لگاو¿ پیدا کرنے کےلئے رکھی گئی ہے۔ لیکن ہرٹفورڈ شائر یونیورسٹی کے ا سکول آف کمپیوٹر سائنسز کی پروفیسر کرسٹین ڈاو¿ٹینہان نے کہا کہ یہ 'کیوٹ' یعنی دلکش روبوٹ نوجوانوں کی دلچسپی کا باعث ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل کیروبو نامی روبوٹ خلا میں بھیجا گیا تھا انھوں نے بی بی سی کو بتایاکہ یہ مجھے ٹماگوچی نظریہ کی یاد دلاتا ہے جس کے تحت آپ کے پاس ایسی کوئی چیز ہو جو زندہ نہ ہو لیکن زندوں جیسی خوبیاں رکھتی ہو۔ ایسی چیزیں لوگوں کی پرورش کی جبلت کو راس آتی ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ بغیر بچے والی خاتون کےلئے اسے بچے کا متبادل خیال کرنا غلط ہوگا۔ بعض رپورٹس میں اسے بچے کا متبادل کہا گیا ہے اور ٹویوٹا کے اشتہار میں خواتین کو اسے پالنے میں جھلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے لیکن کمپنی نے واضح انداز میں ایسا کوئی دعوی نہیں کیا ہے۔ پرفیسر کرسٹین نے کہاکہ اس سے لوگوں کو اچھا لگے گا لیکن اس میں انسان کا کوئی جز نہیں۔روبوٹ بچے کے متبادل نہیں ہو سکتے۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی قیمت تقریبا 300 پونڈ ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل کیروبو نامی روبوٹ 2013 ءمیں خلا میں بھیجا گیا تھا۔

شیئر: