اب وزیر اعظم بننے کی خواہش نہیں،ملالہ

اسلام آباد....نوبل انعام یافتہ طالبہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ آنے والے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور اور ایجنڈے میں صحت اور تعلیم پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ جمہوریت کا تسلسل خوش آئند ہے۔ امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کو خصوصی انٹرویو میں ملالہ نے کہا کہ ساڑھے پانچ سال بعد جب وطن واپس آئی ہوں ایسا لگ رہا ہے کہ خواب دیکھ رہی ہوں۔ ملک میں امن کے قیام میں سیکیورٹی فورسز، حکومت اور عوام کا ایک کردار ہے۔ میری وطن واپسی پاکستان کی جیت ہے۔پشاور میں آرمی پبلک اسکول، سوات، وزیرستان اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کے واقعات سے پاکستان کا منفی تاثر جا رہا تھا۔ عوام اور سیکیورٹی فورسز نے جدوجہد، کوششوں اور قربانیوں کے بعد امن کی منزل کی طرف سفر میں کامیابی حاصل کی۔ میری وطن واپسی سے دنیا میں یہ پیغام گیا کہ ملک کے حالات میں بہتری آ رہی ہے۔ساری دنیا کے لوگوں سے کہتی ہوں کہ وہ سوات اور کشمیر آئےں۔ ایک سوال پر ملالہ نے کہا کہ جب آپ بچے ہوتے ہیں تو آپ کچھ بھی بننا چاہتے ہیں لیکن جیسے ہی آپ کی عمر بڑھتی ہے، آپ کے نکتہ نظر میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ پہلے میں وزیراعظم بننا چاہتی تھی تاکہ بچوں بالخصوص بچیوں کی تعلیم کے لئے کام کر سکوں ۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگر خواتین اور بچوں بالخصوص بچیوں کو آگے آنے کے مواقع ملیں تو پاکستان کے حالات میں بہت زیادہ بہتری آ سکتی ہے۔ دنیا کے کئی صدور اور وزرائے اعظم سے ملی ہوں۔ اب سمجھتی ہوں کہ یہ اتنا آسان کام نہیں بلکہ مشکل کام ہے۔اپنی توجہ تعلیم اورصحت پر مرکوز کرنا چاہتی ہوں۔ ملالہ نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ تشدد اور نفرت کی مخالفت کی ہے۔ منفی تبصروں پر زیادہ توجہ نہیں دیتی بلکہ مثبت بات کی حمایت کرتی ہوں۔
مزید پڑھیں:ملالہ سوات میں آبائی گھر پہنچنے پر آبدیدہ

شیئر: