اب عدلیہ کو ڈیلیور کرنا پڑےگا: چیف جسٹس ثاقب نثار

  چار سدہ... سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاہے کہ وقت آگیا کہ اب ہماری عدلیہ کو ڈیلیور کرنا پڑےگا۔ اگر عدلیہ ڈیلیور نہیں کرےگی تو شاید جو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ نہ کرپائیں۔انسٹی ٹیوشن عمارت سے نہیں شخصیات سے بنتے ہیں۔جو قومیں ایڈہاک ازم پر چلتی ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرتیں ۔ انصاف کا تاخیر سے ملنا انصاف کی موت ہے۔ٹرائل میں جو تاخیر ہوتی ہیں ان کا حل دیاجائے۔دیانت داری، بہترین صلاحیت اور ایمانداری کےساتھ رات دن محنت کریں۔جو سوموٹو ایکشن لئے وہ بنیادی حقوق سے منسلک ہوں گے۔ جوڈیشل کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے قانون بہت پرانے ہیں۔ان قوانین کو اپ ڈیٹ کرنا مقننہ کاکام ہے۔ہم نے قانون کو اپ ڈیٹ نہیں کیا۔ سب سے بڑا مسئلہ ہے لوگوں کو جلد انصاف نہیں ملتا۔انہوںنے کہا کہ آج بھی کئی ایسے مقدمات کو سپریم کورٹ میں دیکھ رہا ہوں جو 1985 میں دائر ہوئے۔اب ان لوگوں کو کیا جواب دوں۔
مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں تمام اتائی کلینکس بند کرنے کا حکم

شیئر: