ماں کے ہاتھوں بچی کا قتل: شوہر اور باپ سے بھی تفتیش ہوگی

 کراچی: کلفٹن کے علاقے میں معصوم بچی کو سمندر میں ڈبو کر قتل کرنے کے الزام میں زیر حراست ماں کے ساتھ اس کے شوہر اور والد سے بھی تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ شکیلہ نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں کہا تھا کہ اس کے شوہر نے ایک ماہ قبل اسے بلاوجہ گھر سے بے دخل کردیا تھا جبکہ اس کے باپ نے بھی گھر میں جگہ نہ دی جس پر وہ دربدر ہوگئی تھی اور اسی وجہ سے بچی سے چھٹکارا پا کر خود بھی مرنا چاہتی تھی۔ واضح رہے کہ 4 فروری کی شام ڈیفنس کے علاقے میں فرحان شہید پارک کے قریب پیش آنے والے واقعہ میں 28 سالہ شکیلہ راشد نے اپنی ڈھائی سالہ بیٹی انعم کو سمندر میں ڈبو دیا تھا جس کی لاش گزشتہ روز دودریا کے قریب سے برآمد ہوئی تھی۔ جس کے بعد ٹی وی اور سوشل میڈیا پر خاتون اور اس کے شوہر و والد پر سخت تنقید جاری تھی۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ 28 سالہ خاتون کا اپنی بیٹی کو سمندر میں ڈبو کر قتل کرنا ذاتی فعل ہے تاہم اس حوالے سے بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے کہ وہ اس انتہائی اقدام پر مجبور ہوئی۔ اس حوالے سے ملزمہ شکیلہ کے شوہر راشد شاہ اور والد سے تفتیش کی جائے۔ پولیس حکام کے مطابق اس الزام کو قتل بالسبب کہا جاتا ہے جس پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 عائد ہوتی ہے۔ سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) انویسٹی گیشن ساﺅتھ طارق دھاریجو کے مطابق اس الزام کو 'قتل بالسبب' کہا جاتا ہے جس پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 عائد ہوتی ہے۔
 
 

شیئر: