Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ملک حالت جنگ میں ہے وزرا کو نوبل انعام کی پڑی ہے،خورشید شاہ

اسلام آباد... پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں فواد چوہدری کی وزیراعظم کو امن کا نوبل انعام دینے کی قرارداد پر افسوس ہوا ہے کہ ملک حالت جنگ میں ہے اور ہمیں نوبل انعام کی پڑ گئی۔ مجھے سمجھ نہیں آتا حکومتی وزراءیہ سب کیوں کر رہے ہیں۔ ابھی تو وقت ہے کہ ساری قوم مل کر دعا کرے کہ حالت جنگ سے نکل ائیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ملکی حالات کے پیش نظر حکومت کے ساتھ اختلافات ایک طرف رکھے اور ملکی سلامتی کے لئے حکومت سے ایک قدم آگے بڑھ کر اپنا تعاون پیش کیا۔ میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس میں تمام جماعتوں کو آرمی چیف نے خود بریفنگ دی مگر وزیر اعظم ملکی دفاع اور قومی یکجہتی کے اس اہم اجلاس میں نہیںآئے۔ وزیراعظم نے گوارہ ہی نہیں کیا کہ وہ پارلیمانی لیڈروں کے ساتھ بیٹھیں۔اپوزیشن نے وزیراعظم کے نہ آنے کو بھی درگزر کیا ۔ جب ملک کو بڑے مسائل درپیش ہوں تو پھر چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ نہیں بنایاچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دشمن کو قومی یکجہتی کا پیغام دینے میں اپوزیشن پیش پیش رہی ۔ جس وزیراعظم کو نوبل انعام دلوانا چاہتے ہیں اس نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن رہنماوں سے سلام دعا تک نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے 20 کروڑ عوام اہمیت رکھتے ہیں۔وزیراعظم کے ساتھ ہاتھ ملانا اہم نہیں بلکہ موجودہ صورت حال اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال میں قوم الرٹ رہے۔ دشمن سے خیر کی توقع نہیں۔س مشکل گھڑی میں پوری قوم افواج پاکستان کے پیچھے کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عسکری اور سفارتی سطح پر ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ امن پسند ہیں اور امن چاہتے ہیں۔ اگر ہم امن سے ہٹ گئے تو خطے میں امن نہیں رہے گا ۔ اگر خطے میں امن نہ رہا تو اس سے دنیا بھی متاثر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سپر پاورز کو چاہیئے کہ وہ پاکستان کے خلاف ہندوستانی جارحیت روکنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔
 

شیئر: