سپین میں برسوں سے غیرقانونی طور پر مقیم ہزاروں پاکستانیوں نے وہاں کی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں شروع کیے گئے منصوبے سے اُمیدیں وابستہ کر لی ہیں۔
سپین کی حکومت نے ملک میں مقیم غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد وہاں موجود پاکستانی کمیونٹی میں سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔ یہ فیصلہ اگرچہ ایک بڑا موقع ہے مگر اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے درکار قانونی اور انتظامی مراحل بہت سے لوگوں کے لیے الجھن اور پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔
سپین کی حکومت کے اس منصوبے کے تحت اندازاً پانچ لاکھ افراد کو قانونی رہائش اور کام کی اجازت دی جائے گی جن میں بڑی تعداد پاکستانیوں کی بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں
ہسپانوی وزیر برائے مائیگریشن کے مطابق یہ اقدام انسانی حقوق، سماجی شمولیت اور معاشی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے کیونکہ سپین کو ایک طرف افرادی قوت کی کمی اور دوسری جانب بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
حکومتی بیان کے مطابق اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے شرط یہ رکھی گئی ہے کہ درخواست گزار کم از کم پانچ ماہ سے سپین میں مقیم ہو اور اس کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہو۔ توقع ہے کہ درخواستیں اپریل میں شروع ہو کر جون کے آخر تک جمع کرائی جا سکیں گی۔
تاہم اس پورے عمل میں سب سے اہم اور لازمی دستاویز پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ قرار دیا گیا ہے۔ یہی وہ کاغذ ہے جو اس قانونی سکیم میں داخلے کی بنیاد بن رہا ہے۔ پاکستانی شہریوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ صرف پاکستان میں درخواست گزار کے آبائی یا مستقل ضلع کی پولیس کے ذریعے ہی جاری ہوتا ہے۔ اس سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے یا تو خود پاکستان ہونا ضروری ہے، یا پھر کسی قریبی رشتہ دار کو تحریری اجازت دے کر یہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔

اس تحریری اجازت کو اتھارٹی لیٹر کہا جاتا ہے، اور یہی مرحلہ اب ہزاروں پاکستانیوں کے لیے سب سے بڑی مشکل بن چکا ہے۔ قانون کے مطابق بیرونِ ملک مقیم کوئی بھی پاکستانی اگر پاکستان میں کسی شخص کو اتھارٹی لیٹر دیتا ہے تو اس دستاویز کا اس ملک کی مقامی مجاز اتھارٹی سے تصدیق شدہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ مگر چونکہ سپین میں موجود بڑی تعداد میں پاکستانی غیرقانونی حیثیت میں مقیم ہیں، اس لیے ہسپانوی حکام ان کی دستاویزات کی تصدیق نہیں کرتے۔ اس قانونی خلا نے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے حصول کو تقریباً ناممکن بنا دیا تھا اور قانونی حیثیت کی امید ایک نئے بحران میں بدلتی دکھائی دے رہی تھی۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سپین میں موجود پاکستانی سفارتی مشنز نے ایک عبوری مگر عملی حل متعارف کروایا۔ میڈرڈ میں پاکستانی سفارت خانے اور بارسلونا میں پاکستانی قونصل خانے نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اتھارٹی لیٹر جاری کریں گے، جنہیں پاکستان میں ضلعی پولیس دفاتر قبول کریں گے۔ اس فیصلے سے ہزاروں پاکستانیوں کو سہولت مل گئی ہے۔
اتھارٹی لیٹر حاصل کرنے کے لیے درخواست گزار کو متعلقہ پاکستانی سفارتی مشن جانا ہوتا ہے۔ وہاں ایک مخصوص فارم پُر کیا جاتا ہے، جس کے ساتھ دو عدد پاسپورٹ سائز تصاویر، قومی شناختی کارڈ یا پاکستانی پاسپورٹ کی نقول جمع کروانا لازمی ہے۔ سفارتی عملہ ان دستاویزات کی جانچ کے بعد اتھارٹی لیٹر جاری کرتا ہے، جس میں واضح طور پر اس شخص کا نام درج ہوتا ہے جسے پاکستان میں پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہوتا ہے۔
تاہم جیسے ہی یہ سہولت سامنے آئی، سپین بھر سے پاکستانیوں کی بڑی تعداد میڈرڈ اور بارسلونا پہنچنے لگی۔ روزانہ سینکڑوں درخواستوں کے باعث سفارتی دفاتر پر غیر معمولی دباؤ بڑھ گیا۔ طویل قطاریں، محدود عملہ اور کئی کئی دن بعد ملنے والی اپوائنٹمنٹس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اسی دباؤ کے پیش نظر قونصل خانہ جنرل پاکستان، بارسلونا نے ایک اہم اور عملی فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے لیے درکار اتھارٹی لیٹر کے اجرا کی غرض سے قونصل خانہ ہفتہ اور اتوار کو بھی کھلا رہے گا۔
قونصل خانے کے مطابق یہ سہولت عارضی طور پر صرف اتھارٹی لیٹر کے اجرا تک محدود ہو گی، جبکہ بعض دیگر قونصلر خدمات جن میں شہریت سے دستبرداری، قومی شناختی کارڈ کی منسوخی اور پاکستان اوریجن کارڈ سے متعلق امور شامل ہیں، وقتی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ قونصل خانے نے عوام سے نظم و ضبط، صبر اور مقررہ طریقہ کار پر عمل کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
جب اتھارٹی لیٹر جاری ہو جاتا ہے تو اگلا مرحلہ پاکستان میں شروع ہوتا ہے۔ درخواست گزار کو چاہیے کہ وہ اتھارٹی لیٹر، اپنی شناختی دستاویزات کی نقول اور دیگر مطلوبہ کاغذات پاکستان میں اپنے رشتہ دار کو بھجوا دے۔ یہ رشتہ دار متعلقہ ضلع کے ضلع پولیس آفس یا پولیس سروس سنٹر سے رجوع کرتا ہے، جہاں پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست جمع کروائی جاتی ہے۔
پولیس درخواست موصول ہونے کے بعد مقامی سطح پر مکمل جانچ پڑتال کرتی ہے، جس میں کسی بھی قسم کا مجرمانہ ریکارڈ، درج مقدمات یا پولیس رپورٹس شامل ہوتی ہیں۔ اگر ریکارڈ صاف ہو تو چند دنوں کے اندر پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے، تاہم بعض اضلاع میں یہ عمل زیادہ وقت بھی لے سکتا ہے۔

سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد بعض صورتوں میں اس کی مزید تصدیق یا اپوسٹیل (Apostille) کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے، تاکہ یہ دستاویز سپین میں قابلِ قبول ہو سکے۔ اس مرحلے کے بعد پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کو سپین میں قانونی حیثیت کی درخواست کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔
پاکستانی کمیونٹی تنظیموں اور ماہرین کے مطابق اس پورے عمل میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے۔ سپین کی حکومت نے قانونی حیثیت کے لیے درخواستوں کی ایک محدود مدت مقرر کی ہے، اور اگر اس مدت کے اندر پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ جمع نہ کروایا گیا تو درخواست مسترد ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی لیے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ضلعی پولیس بیرونِ ملک سے آنے والی ان درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹائے۔
اس حوالے سے مقامی کمیونٹی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کریکٹر سرٹیفکیٹ کے اجرا کو آسان بناتے ہوئے اس کے ڈیجیٹل اجرا کا اغاز کریں تاکہ شہری بغیر کسی بیرونی مداخلت کے از خود کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں۔












