لاہور میں کروڑوں روپے کے سولر پینلز کے فراڈ میں ملوث ملزم کراچی سے کیسے پکڑا گیا؟
لاہور میں کروڑوں روپے کے سولر پینلز کے فراڈ میں ملوث ملزم کراچی سے کیسے پکڑا گیا؟
جمعہ 30 جنوری 2026 5:21
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
تاجر اویس خالد کے مطابق ’ملزم مارکیٹ میں سولر پینلز، بیٹریاں اور انورٹرز جیسے مہنگے سامان کی خرید و فروخت میں وہ ایک معروف نام بن گیا تھا۔‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سولر پینل ڈیلرز کے ساتھ کروڑوں روپے کے فراڈ کا واقعہ سامنے آیا ہے جس کا ملزم کراچی میں ڈیلرز کے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔
لاہور میں ہال روڈ کو الیکٹرانکس اور اب سولر پینلز کے بزنس کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ حال ہی میں یہاں ڈیلرز کے ساتھ کروڑوں روپے کا فراڈ ہوا ہے جس میں ملزم کروڑوں روپے کے سولر پینلز، بیٹریاں اور انورٹرز وغیرہ لے کر غائب ہو گیا تھا۔
اس حوالے سے تھانہ گجر سنگھ میں چار مختلف مقدمات درج ہوئے ہیں جن کے مطابق ملزم کئی ماہ سے ہال روڈ پر سولر پینلز کے کاروبار سے منسلک تھا۔
ایف آئی آرز کے مطابق 11 دکان دار اس فراڈ سے متاثر ہوئے ہیں جن کا کروڑوں روپے مالیت کا سامان بطور امانت رکھا تھا۔
ہال روڈ کے تاجر اویس خالد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ملزم گذشتہ چھ، سات ماہ سے ہال روڈ میں قائم سولر پینلز کی مارکیٹ میں کام کر رہا تھا۔ یہاں اس کی دکان تھی۔ وہ مارکیٹ میں باقاعدگی سے آتا جاتا تھا۔ خرید و فروخت کرتا تھا اور بعض اوقات خود بھی مال فراہم کر دیتا تھا۔ رفتہ رفتہ اس نے پوری مارکیٹ میں اپنا اعتبار بنا لیا۔‘
ان کے مطابق مارکیٹ میں سولر پینلز، بیٹریاں اور انورٹرز جیسے مہنگے سامان کی خرید و فروخت میں وہ ایک معروف نام بن گیا تھا۔
ایک اور تاجر علی امام نے 37 لاکھ روپے مالیت کا سامان بطور امانت دینے کا ذکر ایف آئی آر میں کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزموں نے امانت میں خرد برد کی اور بعد ازاں رقم اور سامان واپس دینے سے انکار کر دیا۔
علی امام نامی اس ڈیلر کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ’یکم جنوری کو ملزم نے رابطہ کیا اور بتایا کہ ایک بڑی پارٹی سولر سسٹم لگوانا چاہتی ہے۔‘
اس نے کہا کہ ’پارٹی شاپ پر وزٹ کے لیے آ رہی ہے۔ اس لیے ڈسپلے کے لیے پینلز، بیٹریاں اور انورٹرز فراہم کر دیں۔‘
ڈسپلے کے لیے فراہم کردہ سامان کی مالیت 37 لاکھ روپے بنی۔ اگلے روز رقم دینے کا وعدہ کیا گیا لیکن پھر بہانے شروع ہو گئے۔ کبھی کہا وزٹ نہیں ہوا تو کبھی وقت مانگا اور پھر ایک دن دکان بند ملی جبکہ موبائل فون بھی بند تھا۔
کراچی کی صدر مارکیٹ میں جب یہی شخص اپنے سٹاک کی ڈیل کے لیے پہنچا تو وہاں موجود تاجروں کو گروپس میں زیربحث معاملہ یاد آ گیا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
مقدمات کے متن کے مطابق چھ سے سات ماہ تک ملزم نے مارکیٹ میں اعتماد قائم کیے رکھا۔ عمیر یوسف نامی تاجر نے اس فراڈ میں ایک کروڑ سے زائد گنوا دیے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے ’جب وہ غائب ہوا تو ہم نے فوراً واٹس ایپ گروپس میں اس کی تصویر اور ساری تفصیل شیئر کر دی۔ ہماری کمیونٹی کے اپنے گروپس ہوتے ہیں تو یوں یہ معاملہ تیزی سے کمیونٹی میں پھیل گیا۔‘ یہی گروپس بعد میں اس کہانی کا اہم موڑ ثابت ہوئے۔
گذشتہ دنوں کراچی کی صدر مارکیٹ میں جب یہی شخص اپنے سٹاک کی ڈیل کے لیے پہنچا تو وہاں موجود تاجروں کو گروپس میں زیربحث معاملہ یاد آ گیا۔
انہوں نے شک گزرنے پر خفیہ طور پر اس کی تصاویر بنائیں اور لاہور میں موجود ڈیلرز سے شناخت کی تصدیق کی۔
اویس خالد بتاتے ہیں کہ ’ہمیں تصاویر ملیں تو ہم نے بتایا کہ یہ وہی شخص ہے۔ پھر وہاں ڈیلرز نے اسے پکڑ لیا۔ مجموعی طور پر اس نے ڈیلرز کے ساتھ 18 کروڑ روپے کا فراڈ کیا ہے۔‘
تاجروں نے اس پوری کارروائی کی ویڈیوز بھی بنائیں جو بعد میں لاہور کے متاثرہ تاجروں تک پہنچیں۔
کراچی میں مرکزی ملزم کے پکڑنے کی اطلاع ملنے پر لاہور انویسٹی گیشن پولیس کی ایک ٹیم کراچی روانہ ہوئی تاکہ قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔
ایس پی سول لائنز کے مطابق ملزموں کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: ایکس)
پولیس نے ملزم کو پکڑ کر لاہور منتقل کر دیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس حکام کے مطابق مزید ساتھیوں کو بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’دیگر تاجروں کی جانب سے مزید درخواستیں موصول ہونے پر تفتیش کے بعد مزید ایف آئی آرز بھی درج کی جائیں گی۔‘
ایس پی سول لائنز کے مطابق ملزموں کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور چھاپے مارے جا رہے ہیں۔