چین،کیمیکل پلانٹ میں دھماکہ،47افراد ہلاک

چین کے سرکاری ذرائع کے مطابق ملک کے مشرقی حصے میں  ایک کیمیائی پلانٹ میں ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 47 ہو گئی ہے جبکہ 90 افراد شدید زخمی ہیں۔چین کے سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہواکے مطابق کھاد بنانے والے کارخانے میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی تھی۔ہلاکتوں کی تعداد کے اعتبار سے یہ چین کی صنعتوں میں حالیہ برسوں میں پیش آنے والے بدترین حادثات میں سے ایک ہے۔  چین کے شہر یان چنگ میںجیانگ سوتیانجیائی کیمیکل کمپنی کے پلانٹ میں دھماکہ جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بج کر 50 منٹ پر ہوا تھا۔شن ہوا کے مطابق دھماکہ کے بعد 640 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا،کئی کی حالت تشویشناک تھی جبکہ درجنوں افراد کو شدید چوٹیں آئی تھیں۔ چین میں زلزلے سے متعلق آگاہی دینے والے ادارے کے مطابق دھماکہ کے وقت 2.2 شدت کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔جائے حادثہ کی تصاویر میں آگ کے گولے کو پھٹتے،علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیتے بادلوں ، زخمیوں اورمتاثرہ عمارتوں کو دیکھاجاسکتا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ کارخانہ کی جائے حادثہ سے دور واقع متعدد عمارتیں گرنے سے کئی مزدور اندر پھنس گئے تھے۔دھماکہ کے مقام سے تقریباً تین کلومیٹر دور واقع ہینگلیڈا کیمیکل فیکٹری کے عملے کا کہنا ہے کہ ان کے کارخانہ کی چھت گر گئی، کھڑکیاں اور دروازے دھماکے سے اُڑ گئے۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر سے آگ بجھانے والے عملے کو جائے حادثہ پر طلب کیا گیا ۔سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق دھماکہ کے بعد لگنے والی آگ پر جمعے کو مقامی وقت کے مطابق تین بجے قابو پالیاگیا۔ایک خاتون جنہوں نے اپنا خاندانی نام شیانگ بتایا،کاکہنا تھا کہ وہ کچھ عرصہ سے فیکٹری میں حفاظتی اور آلودگی سے متعلق اقدامات پرفکرمندتھیں۔ خاتون نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ ہم جانتے تھے کہ ایک دن ہم بھی دھماکے سے اُڑ جائیں گے۔ ‘برطانوی خبر رساں ادارے رائٹر نے مقامی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھاہے کہ دھماکہ سے قبل جائے حادثہ پر کسی مسئلہ کی نشاندہی نہیں ہوئی تھی، تاہم صوبائی حکام کی جانب سے کیمیائی مصنوعات اور انہیں ذخیرہ کرنے کی جگہ کی ہنگامی بنیادوں پر معائنہ کیا جائے گا۔غیر موثراور ناکافی حفاظتی اقدامات کی وجہ سے چین کے کارخانوں میں آتشزدگی اور کان کنی کے دوران حادثات عام ہیں۔  حالیہ برسوں میں اس نوعیت کا سب سے بڑا واقعہ اگست 2005 میںتیانجن میں پیش آیا تھا جس میں 160 سے زائد افراد ہلاک اور ایک ہزارکے قریب زخمی ہوئے تھے۔

شیئر: