فلم ”پی ایم نریندر مودی“کی ریلیز کے خلاف درخواست مسترد

انڈین سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی زندگی پر بننے والی بالی وڈ فلم '’پی ایم نریندر مودی' ‘کی ریلیز موخر کرنے کی درخواست مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو الیکشن کمیشن کو دیکھنا چاہیے۔
اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے فلم کی انتخابات سے قبل ریلیز کے خلاف عدالت عظمی سے رجوع کیا تھا۔ 
کانگریس کا کہنا ہے کہ بالی وڈ فلم 'پی ایم نریندرمودی' پروپیگنڈہ ہے اور اس کا غیر منصفانہ فائدہ الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ہوگا۔
خیال رہے کہ انڈیا میں عام انتخابات 11 اپریل سے شروع ہو رہے ہیں جو مرحلہ وار 19 مئی تک جاری رہیں گے۔
انڈین سپریم کورٹ نے فلم کی ریلیز کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ فلم کو ابھی تک سینسر سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا ہے۔ عدالت عظمی نے کہا کہ اس معاملے کو الیکشن کمیشن کو دیکھنا چاہیے۔
انڈیا کے موجودہ الیکشن قوانین کے مطابق کسی بھی الیکشن مہم کے مواد بشمول اشتہارات، فلم یا سوشل میڈیا پر کوئی مواد چھاپنے/ریلیز کرنے کے لیے الیکشن کمیشن سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے۔
منگل کے روز عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے کانگریس کی درخواست پر اپنی رولنگ میں کہا ہے کہ ' کورٹ کا بہت زیادہ وقت نان ایشوز پر ضائع کیا جا رہا ہے۔'
بینچ نے مزید کہا کہ 'کیونکہ اس فلم کو ابھی تک ریلیز کے لیے سینسر سرٹیفکیٹ ہی نہیں ملا ہے اس لیے عدالت کا اس معاملے کا فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا'
فلم کے پروڈیوسر سندیپ سنگھ نے فیصلہ پرعدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے ٹویٹر اکاﺅنٹ میں انہوں نے لکھا ' ہماری فلم 'پی ایم نریندر مودی' 11 اپریل کو ریلیز ہوگی۔ جئے ہند۔'
انڈین وزیراعظم پر بننے والی فلم میں بالی وڈ اداکار وویک اوبرائے نے مرکزی کردار اداکیا ہے۔ فلم میں مودی کی زندگی کے مختلف ادوار بشمول ان کے ہندو انتہا پسند جماعت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ساتھ گزارے ہوئے ابتدائی برسوں کا احوال اور ہندوستانی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر ان کے زندگی کے حالات کو دکھایا گیا ہے۔
 
 

شیئر: