کوئٹہ سبزی منڈی خود کش حملے میں 20 افرادہلاک، ہزارہ برادری کا احتجاجی دھرنا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی سبزی منڈی میں ہونے والے بم دھماکے میں 20 افراد ہلاک اور 48 زخمی ہوئے ہیں،  ہلاک ہونے والوں میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 11 ہو گئی ۔
 اس واقعہ کے بعد ہزارہ قبیلے کے افراد نے شہر کے مغربی بائی پاس پر دھرنا دیا ہوا ہے۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ریاست ہزارہ قبیلے کو تحفظ فراہم کرنے کے  لئے بڑے پیمانے پر آپریشن کرے اور اس حملے میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔
حملے کے بعدوزیرداخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا تھاکہ دھماکا ہزار گنجی سبزی منڈی میں جمعہ کی صبح تقریباً سات بجکر تیس منٹ پرہوا۔
صوبائی وزیرداخلہ نے دھماکے کو خودکش قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'حملے کا ہدف کسی مخصوص کمیونٹی کے لوگ نہیں تھے۔مختلف کمیونٹی کے افراد نشانہ بنے، تاہم سب سے زیادہ نقصان ہزارہ برادری کا ہوا۔ '
انہوں نے بتایا تھا کہ مرنے والوں کی تعداد 20ہے۔جبکہ دھماکے کے 48 زخمی شہر کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھاکہ ' ہزارہ برادری کے افراد کو پہلے بھی ہدف بنایا جاتا رہا ہے اسی لئے انہیں سیکورٹی میں لایا اور لے جایا جاتا ہے مگر اس دھماکے کا ہدف اب تک معلوم نہیں، تفتیش ہوگی تو کوئی حتمی نتیجہ سامنے آئے گا۔'
خیال رہے کہ ہزار گنجی کی سبزی منڈی کوئٹہ شہر سے تقریباً15کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور یہاں صوبے اور ملک کے مختلف حصوں کے علاوہ ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران سے بھی پھل اور سبزیاں خرید و فروخت کیلئے لائی جاتی ہیں۔
جمعہ کو ہونے والے دھماکے سے کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔سیکورٹی اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا۔
عینی شاہد مزدور سردار محمد نے اردو نیوز کو بتایاکہ’ہم ٹرکوں سے سامان اتار رہے تھے کہ اس دوران زوردار دھماکا ہوا۔ پہلے ہم سمجھے کہ آلوؤں سے بھرے ٹرک کا ٹائر پھٹ گیا مگر جب قریب گئے تو ہر طرف لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔'
پھلوں کی خرید و فروخت کرنے والے ایک بیوپاری حاجی عطاء محمدنے بتایا کہ ' دھماکے میں زیادہ مزدور متاثر ہوئے جو ٹرکوں سے سامان اتارنے اور لادنے کا کام کرتا ہے'
لاشوں اور زخمیوں کو پولیس اور امدادی کارکنوں نے کوئٹہ کے بولان میڈیکل ہسپتال، سول ہسپتال، شیخ زید ہسپتال اور ایف سی ہسپتال پہنچایا جہاں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ سول ہسپتال اور بولان میڈیکل ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ مرنے والوں میں سے اٹھارہ کی شناخت ہوگئی ہے جن میں ہزارہ قبیلے کے گیارہ افراد اور ایک ایف سی اہلکار بھی شامل ہے۔
پولیس کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں ہزاروں برادی کے علاوہ مزدوروں اور راہ گیروں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ 
 سول ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم نے اردو نیوز کو بتایا کہ چھ سے دس سال کی عمر کے دو بچے بھی دھماکے میں ہلاک ہوئے۔
وزیراعظم عمران خان،بلوچستان کے گورنر امان اللہ یاسین زئی اور وزیراعلیٰ جام کمال سمیت ملک کی تمام اہم سیاسی جماعتوں نے دھماکے کی مذمت کی ہے۔ 
میڈیا سے گفتگو میں وزیردخلہ بلوچستان ضیاء لانگو کا مزید کہنا تھا کہ' بلوچستان خطے کا اہم حصہ بننے جارہا ہے جو دشمن کو ہضم نہیں ہورہا  اور وہ اسی لئے چھپ کر وار کررہا ہے۔ ملک میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری ہے۔ کوئٹہ میں بھی سیکورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کیلئے
 خفیہ کیمروں کا جال بچھانے کیلئے سیف سٹی پروگرام پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔ '
سول  اسپتال کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی قادر علی نائل کا کہنا تھا کہ  'یہ حملہ کوئٹہ کے امن کو خراب کی سازش ہے۔ دہشت گرد خون کی ہولی کے ذریعے برادر اقوا  م میں نفرت پھیلانا چاہتے ہیں مگر ہم دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے اوران کی یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔'
 ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی گرفتاری کیلئے جلد مؤثر سرچ آپریشن شروع کیا جائے، تاکہ لوگوں میں پائی جا نے والی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے۔
کوئٹہ میں رواں سا ل دہشت گردی کا یہ سب سے ہلاکت خیز واقعہ ہے۔ 2018ء میں دہشتگردی کے 277 واقعات میں 311 افراد ہلاک اور 601 زخمی ہوئے تھے۔بلوچستان میں 2013ء سے اب تک دہشت گردی کے واقعات میں 1900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں ہزارہ برادری کے افراد کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ تاہم حالیہ سالوں میں فرقہ واریت کی بنیاد پر دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی دیکھی گئی۔

شیئر: