Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان سے 46 پروازیں متاثر،مسافروں کو طویل انتظار اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا

مسافروں کی شکایت ہے کہ ایئر پورٹ پہنچنے پر فلائٹ کینسل ہونے کا بتایا جاتا ہے: فائل فومو اے ایف پی
پاکستان سے مشرق وسطیٰ صورتحال کے پیش نظر مختلف ایئر لائنز کی متعدد پروازیں منسوخ، معطل یا تاخیر کا شکار ہونے کے نتیجے میں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سمیت دیگر بین الاقوامی ایئر لائنز نے بھی احتیاطی اقدامات کے طور پر اپنے فلائٹ آپریشن میں تبدیلیاں کی ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حکام کے مطابق پاکستان کے بڑے ہوائی اڈوں سے مشرق وسطیٰ جانے والی کم از کم 46 پروازیں متاثر ہوئیں، جن میں سے 21 کو بعد میں منسوخ کر دیا گیا جبکہ 25 پروازیں یا تو تاخیر کا شکار رہیں یا عارضی طور پر معطل کی گئیں۔
ان اقدامات کی بنیادی وجہ خلیجی خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی سکیورٹی صورتحال اور بعض حساس فضائی راستوں کی دستیابی میں کمی بتائی جا رہی ہے۔
دارالحکومت کے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے سب سے زیادہ متاثرہ آپریشن دیکھنے میں آیا جہاں مجموعی طور پر 14 پروازیں متاثر ہوئیں۔
ان میں چھ پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ پانچ تاخیر کا شکار رہیں اور تین کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق فجیرہ، دبئی اور دوحہ جانے والی پروازویں زیادہ متاثر ہوئی ہیں جبکہ بعض ایئر لائنز نے آخری وقت میں شیڈول تبدیل کیے۔
ملک کے سب سے بڑے شہر کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی صورتحال مختلف نہیں رہی جہاں 12 پروازیں متاثر ہوئیں۔ ان میں پانچ منسوخ، چار تاخیر کا شکار اور تین معطل کی گئیں۔
کراچی سے دبئی، شارجہ اور مسقط جانے والے مسافروں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کچھ پروازوں کو متبادل فضائی راستوں کے باعث تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
ادھر علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 10 پروازیں متاثر ہوئیں جن میں چار منسوخ، تین تاخیر کا شکار اور تین معطل رہیں۔
مسافروں کو طویل انتظار اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا

حکام کے مطابق پاکستان کے بڑے ہوائی اڈوں سے مشرق وسطیٰ جانے والی کم از کم 46 پروازیں متاثر ہوئیں: فائل فوٹو اسلام آباد ایئر پورٹ

 
لاہور سے خلیجی ممالک کے لیے پروازوں میں ردوبدل کے باعث مسافروں کو طویل انتظار اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
دیگر شہروں میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہوا۔ ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ، سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مجموعی طور پر 10 پروازیں متاثر ہوئیں، جن میں چھ منسوخ، دو تاخیر کا شکار اور دو معطل کی گئیں۔
ان ایئرپورٹس سے سفر کرنے والے مسافروں کو بھی آخری وقت میں تبدیلیوں کے باعث مشکلات پیش آئیں۔
ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث بعض فضائی حدود کو محدود یا عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایئر لائنز کو اپنے روٹس تبدیل کرنا پڑے۔
متبادل راستوں کے استعمال سے نہ صرف پروازوں کا دورانیہ بڑھتا ہے بلکہ ایندھن کی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جس کے باعث بعض پروازیں معاشی طور پر قابل عمل نہیں رہتی ہیں۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور مسافروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فجیرہ کے لیے پروازوں کی عارضی معطلی احتیاطی اقدام ہے جبکہ العین کے لیے پروازیں جاری رکھ کر محدود آپریشن برقرار رکھا گیا ہے۔
مسافروں کی جانب سے شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ انہیں بروقت معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
بعض افراد نے بتایا کہ وہ ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد پرواز کی منسوخی سے آگاہ ہوئے، جس کے باعث انہیں نہ صرف مالی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ متبادل سفری انتظامات بھی مشکل ہو گئے۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق فجیرہ، دبئی اور دوحہ جانے والی پروازویں زیادہ متاثر ہوئی ہیں: فائل فوٹو اے ایف پی

نجی ایئر لائنز نے بھی اپنے شیڈول میں ردوبدل کیا ہے۔ بعض کمپنیوں نے پروازوں کو عارضی طور پر معطل کیا جبکہ کچھ نے محدود آپریشن جاری رکھا ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایئر لائنز کو مسافروں کا اعتماد برقرار رکھنے اور آپریشنل اخراجات کو کنٹرول میں رکھنے جیسے دوہرے چیلنج کا سامنا ہے۔
عالمی سطح پر بھی اس صورتحال کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں، جہاں مختلف ممالک کی ایئر لائنز نے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے فلائٹ روٹس پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔
بعض بین الاقوامی پروازیں متبادل راستوں سے آپریٹ کی جا رہی ہیں جبکہ کچھ کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کے ترجمان سیف اللہ خان نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی پرواز سے قبل متعلقہ ایئر لائن سے تازہ ترین معلومات ضرور حاصل کریں۔
سول ایوی ایشن حکام کے مطابق جیسے ہی سکیورٹی صورتحال بہتر ہوگی، مرحلہ وار فلائٹ آپریشن بحال کر دیا جائے گا۔ موجودہ حالات میں آئندہ 48 گھنٹے فضائی آپریشن کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں اور صورتحال کے مطابق مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔

شیئر: