فواد چوہدری کی ٹویٹ خلاف قانون ہوئی تو کارروائی کریں گے، نیب

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چو ہدری کے علیم خان کے مقدے پر بیان کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ 
فواد چوہدری نے علیم خان کے مقدمے کے بارے میں ہفتے کو ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر اربوں روپے کھانے والے ملزمان و آسانی سے ضمانت مل سکتی ہے تو ایک کاروباری آدمی کو بھی ضمانت دی جانی چاہیے۔ 
وزیر اطلاعات نے اپنی ٹویٹ میں لکھاتھا کہ ’علیم خان کا مقدمہ کم سنگین ہے، اگر اربوں روپے کھانے والے ملزموں کو اتنی آسانی سے ضمانت مل سکتی ہے تو ایک کاروباری آدمی کو جس پر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی الزام نہیں ضمانت دی جانی چاہیے۔عام تاثر یہ ہے کہ علیم کو اپوزیشن کے شور کی وجہ سے ناکردہ جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔‘
اردو نیوز کے نامہ نگار وحید مراد کے مطابق نیب کی جانب سے جاری کیے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’وفاقی وزیراطلاعات کے بیان سے مروجہ قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تونیب ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کر سکتا ہے۔‘
قومی احتساب بیورو نے اپنے اعلامیے میں مزید کہا کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ وفاقی وزیر کے بیانات نیب اور جاری تفتیش میں مداخلت یا ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش تو نہیں۔
نیب نے وفاقی وزیر اطلاعات کے ماضی کے بیانات کا بھی جائزہ لینے کا کہا ہے۔ اعلامیے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ’قومی احتساب بیورو بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم کی واپسی کے لیے کام کرنے والا ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔‘
احتساب بیورو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کا تعلق کسی سیاسی جماعت، گروہ اور فرد سے نہیں۔ 
خیال رہے کہ تحریک انصاف کے پنجاب کے سابق وزیر بلدیات علیم خان کو چھ فروری کو گرفتار کیا گیاتھا اور اس وقت وہ قومی احتساب بیورو کی تحویل میں ہیں۔ 
علیم خان کی گرفتاری کے بعد ان کے کیس کے بارے میں نیب کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں الزام لگایا گیا تھا کہ ’علیم خان نے بطور ممبر صوبائی اسمبلی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے۔ اس کی بدولت پاکستان اور بیرون ملک مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنائے ہیں۔‘
نیب کی پریس ریلیز میں مزید کہا گیا تھا کہ علیم خان نے 2005اور 2006 میں برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں بھی اپنی آف شور کمپنیاں قائم کیں جن کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں تاہم ملزم کی جانب سے ریکارڈ میں مبینہ ردو بدل کے پیش نظر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
 

شیئر: