برطانوی فوجی دنیا کے عظیم ترین جنگجو، امریکہ کے ساتھ کھڑے رہیں گے: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی فوج کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کے عظیم اور نہایت بہادر سپاہی ہمیشہ امریکہ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’افغانستان میں 457 برطانوی فوجی اہلکار جان سے گئے، بہت سے شدید زخمی بھی ہوئے، اور وہ دنیا کے عظیم ترین جنگجوؤں میں شامل تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ ایسا رشتہ ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔‘
امریکی صدر کے مطابق برطانوی فوج بے پناہ جذبے، دل اور جان کے ساتھ خدمات انجام دینے والی فوج ہے اور(سوائے امریکی فوج کے) کسی سے کم نہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم آپ سب سے محبت کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔‘
یاد رہے کہ جمعرات کو امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ بظاہر اس بات سے لاعلم نظر آئے کہ امریکہ پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد برطانیہ کے 457 فوجی افغانستان میں لڑتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
انٹرویو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ (نیٹو والے) کہتے ہیں کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے تھے۔‘ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’اور انہوں نے فوجی بھیجے بھی، لیکن وہ تھوڑا پیچھے رہے، فرنٹ لائن سے ذرا دُور۔‘
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو تضحیک آمیز اور شرمناک قرار دیا تھا۔
کیئر سٹارمر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے ان بیانات کو تضحیک آمیز اور سچ کہوں تو انتہائی شرمناک سمجھتا ہوں۔ مجھے اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہے کہ ان باتوں نے اُن افراد کے اہلِ خانہ کو گہرا دُکھ پہنچایا ہوگا جن کے پیارے اس جنگ میں ہلاک یا زخمی ہوئے۔‘
برطانوی وزیراعظم سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکی صدر سے معافی کا مطالبہ کریں گے تو ان کا جواب کچھ یوں تھا کہ ’اگر میں نے اس طرح کی غلط بات کہی ہوتی یا ایسے الفاظ استعمال کیے ہوتے تو میں یقیناً معافی مانگتا۔‘
