سوڈان میں سول حکومت بنے گی ، قیدیوں کی رہائی کا حکم

 
خرطوم ...سوڈان کی عبوری فوجی کونسل کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبد الفتاح عبدالرحمان البرہان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کے بعد سول حکومت قائم کی جائے گی۔انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ عبوری دور زیادہ سے زیادہ2 سال کے لئے ہوگا۔
مظاہروں کی قیادت کرنے والے اتحاد نے مسلح افواج کی جانب سے نئی سویلین حکومت کی تشکیل کیلئے مشاورت کی دعوت قبول کرلی۔ اس سے قبل مظاہرے کے منتظمین نے عوام پر زور دیا تھا کہ وہ ملک میں سول حکومت کے قیام تک اپنا مارچ جاری رکھیں۔
  خبر رساں ادارے رائٹر اور سبق نیوزکے مطابق ہفتے کو اپنے پہلے نشری خطاب میںلیفٹیننٹ جنرل عبد الفتاح عبدالرحمان البرہان نے رات کے کرفیو کے کی منسوخی اورمعزول صدر عمر حسن البشیر کے نافذ کردہ ایمرجنسی قوانین کے تحت مظاہروں میں گرفتار تمام قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ۔
عبوری فوجی کونسل کے سربراہ نے سوڈانی عوام سے مزید کہا کہ انقلاب کے دوران لگائے گئے نعروں کی تکمیل مل کر یں گے۔عبوری فوجی کونسل ملک میں امن و امان یقینی بنانے کے ساتھ عوام کی خدمت کیلئے بہتر انداز میں کام کرتے ہوئے بہترین سیاسی ماحول مہیا کرے گی۔
انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ عبوری کونسل عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور فساد برپا کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹے گی۔
قبل ازیںسوڈان کی فوجی کونسل کے سربراہ اور وزیردفاع عوض بن عوف30 سال تک حکمران رہنے والے عمر البشیرکو اقتدار سے ہٹانے کے ایک دن بعداپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔ انہوں نے بتایا تھاکہ اب لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتح عبدالرحمان البرہان فوجی کونسل کے سربراہ ہوں گے۔ 
یاد رہے کہ عمر البشیر کے 30 سالہ دور حکومت کے خلاف گزشتہ کئی ماہ سے احتجاج جاری تھا۔ مظاہرین سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور ملک کی کمزور معیشت کے خلاف سڑکوں پر نکل کر عمرالبشیر سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ 
 عمرالبشیر پر ’انسانیت کے خلاف جرائم اور قتل عام‘ کے الزامات ہیں اور ماضی میں عالمی عدالت انصاف ان کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کر چکی ہے۔
 
 

شیئر: