تنخواہ ملتی ہے نہ عید ی ملتی ہے،مسیحی ملازمین

اعظم خان 
 ایسٹر کی آمد آمد ہے۔ ایسے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) میں فرائض سرانجام دینے والے سیکڑوں حفظان صحت کارکن (خاکروب) 5 ماہ سے اپنی تنخواہ سے محرومی کا شکوہ کر رہے ہیں۔
 اپنے حق کے حصول کے لئے یہ ملازمین اسلام آباد کے مئیر شیخ انصر عزیز کے دفتر کے باہر 4 دن سے دھرنا د ئیے بیٹھے ہیں۔ کبھی تقاریر تو کبھی نعرے لگا کر اپنے مطالبات شہر اقتدار میں حکام تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی ان کے پا س رکتا ہے نہ کوئی تسلی دی جاتی ہے۔
ان مظاہرین میں خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ان خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے سلیمہ بی بی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ایسٹر قریب ہے، ان کے بچے چیزیں مانگتے ہیں لیکن خوشی منانے کے لئے کچھ بھی تو ہاتھ میں نہیں ہے۔’ بچے کہتے ہیں تنخواہ ملتی ہے نہ ہی عیدی ملتی ہے۔ ‘ اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اب 25 سال ہوگئے ہیں یہ کام کرتے کرتے اب تومیرے بال بھی سفید ہوگئے ہیں، اب میں اور کہاں جاسکتی ہوں۔‘
مظاہرین کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام انہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں کہ اگر انہوں نے احتجاج ختم نہ کیا تو پھر انہیں ملازمتوں سے فارغ کردیا جائے گا۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اب ان کا حق ملنے تک ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔
دھرنے میں شریک سیموئل بشیر نے اردو نیوز کو بتایا کہ تنخواہ نہ ملنے سے وہ اپنی بچیوں کی ا سکول فیس بھی ادا نہ کرسکے۔ ’میری 2بچیاں خوشی اور اینجل گھر پر بیٹھی ہوئی ہیں، پھر کیا ان کو دیکھ کر دکھ نہیں ہوتا۔‘
اردو نیوز نے میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز اور چیئرمین سی ڈی اے عامر علی احمد سے ان کا موقف جاننا چاہا تو انہوں نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
سی ڈی اے کے ترجمان نے موقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ اسلام آباد کے صرف2 سیکٹرز آئی ایٹ اور آئی ٹین کے ملازمین کا ہے جو جلد حل کرلیا جائے گا۔
حکومتی جماعت تحریک انصاف کے اسلام آباد سے ممبرقومی اسمبلی علی اعوان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہرصورت ایک ماہ کے اندر اس مسئلے کا حل نکالیں۔
تاہم سی ڈی اے کے ایک افسر نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس سے قبل ان ملازمین کی تنخواہ سی ڈی اے دیتا تھا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے آنے کے بعد چیئرمین سی ڈی اے نے بلدیاتی نظام کے تحت کام کرنے والے ادارے میونسپل کارپوریشن سے تعاون کرتے ہوئے انکار کردیا، جس وجہ سے 15000 تنخواہ لینے والے ملازمین اس صورتحال سے مشکل کا شکار ہیں۔
مظاہرین یہ شکوہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام آباد کو خوبصورت رکھنے کے لئے د ن رات ایک کئے ہوئے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

شیئر: