وزیراعظم کی زبان روشنی کی رفتار سے زیادہ پھسلتی ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زبان روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھسل رہی ہے۔

 جاپان و جرمنی کو ہمسایہ قرار دینے اور پاکستانی سرزمین دوسروں کے خلاف استعمال ہونے جیسے بیانات ملک کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں۔
جمعرات کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے گزشتہ روز عمران خان کی جانب سے خود کو 'صاحبہ' قرار دینے کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات توہین آمیز ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ایسا تبصرہ کرنے سے آپ اپنا قد چھوٹا کرتے ہیں، مرد کو عورت کہنے سے مرد کو تو کچھ نہیں ہو گا، لیکن ایسا کر کے پاکستان کی عورتوں کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ پاکستان کی خواتین کو وزیراعظم یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ عورت ہونا گالی ہے۔
وزیراعظم کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کسی معاملے پر کچھ معلوم نہیں تو بہتر ہے کہ اس پر بات نہ کریں۔ میں شاہ محمود قریشی سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے وزیراعظم کو کسی بھی ملک میں اکیلا نہ چھوڑیں، ان کے ساتھ بیٹھا کریں تاکہ ان کی زبان نہ پھسلا کرے، یہ پورے ملک کے لیے شرمندگی کی وجہ بنتی ہے۔
چند روز قبل دیے گئے وزیراعظم کے الگ الگ بیانات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی زبان اتنی پھسلنے لگی ہے کہ کبھی جرمنی اور جاپان کو پڑوسی ملک قرار دے دیتے ہیں۔ کبھی وزیرخارجہ کہتے ہیں کہ ایران میں موجود دہشت گرد پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں، وزیراعظم ایران میں جا کر کہہ دیتے ہیں کہ پاکستانی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
ایک الگ سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’سیلیکٹڈ وزیراعظم سے پوچھنا ہے کہ انہیں ایمپائر کی انگلی پسند آئی، جنہوں نے سیلیکٹ کیا ان سے پوچھنا ہے کہ کیا انہیں تبدیلی پسند آئی ہے؟‘
پی پی پی سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم نے جب اقتدار سنبھالا تو ملک میں کٹھن حالات میں ہونے کے باوجود 68 لاکھ افراد کو روزگار دیا، تنخواہوں اور پنشنز میں اضافہ کیا، بی آئی ایس پی دیا، اس دور میں پاکستان گندم برآمد کرنے والا ملک بنا، مشکل حالات کے باوجود کسان و مزدور خوش تھے۔
انہوں نے کہا کہ عموماً حزب اختلاف جلسے جلوس اور پارلیمان میں تنقید و احتجاج کرتی ہے جب کہ حکومت ایوان میں اس کا جواب دیتی ہے مگر یہاں حکومت اپنی نااہلی چھپانے کیلیے جلسے کر رہی ہے اور حزب اختلاف ایوان میں جوابات کی منتظر ہے۔
حکومت آئی ایم ایف مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر قرضوں سے متعلق شرائط کو پارلیمان میں پیش نہیں کیا گیا تو ہم اس معاہدہ کو تسلیم نہیں کریں گے، ایسے میں یہ غیر قانونی کام ہو گا۔

شیئر: