پنجاب میں پالتو شیروں کے حالیہ حملوں کے بعد صرف عارضی پکڑ دھکڑ یا کچھ بدلے گا؟
پنجاب میں پالتو شیروں کے حالیہ حملوں کے بعد صرف عارضی پکڑ دھکڑ یا کچھ بدلے گا؟
بدھ 28 جنوری 2026 10:31
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
صوبہ پنجاب میں حالیہ دنوں پالتو شیروں کے حملوں کے دو سنگین واقعات نے نہ صرف شہریوں میں خوف پیدا کیا بلکہ حکومت کو صوبے بھر میں شیروں اور دیگر بڑے جنگلی جانوروں کو نجی طور پر رکھنے پر پابندی عائد کرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران لاہور کے علاقے نواں کوٹ اور سبزہ زار میں شیر کے حملے کے دو الگ الگ واقعات پر یہ سوال کیا جا رہے کہ آیا آبادی والے علاقوں میں ایسے خطرناک جانوروں کو رکھنے کی اجازت کیوں دی گئی۔
شروع میں یہ تاثر سامنے آیا کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے، تاہم بعدازاں واضح ہوا کہ یہ دو مختلف مقامات پر پیش آنے والے الگ الگ واقعات تھے۔
ان دونوں واقعات نے یہ واضح کر دیا کہ نجی طور پر رکھے جانے والے شیر نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خود ان جانوروں کے لیے بھی اذیت کا باعث ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں شیروں اور دیگر بڑے درندوں کو نجی طور پر رکھنے کے تمام اجازت نامے منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے قانون میں ترمیم کی ہدایت کی ہے۔
پنجاب میں اس سے قبل قانون کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ بڑے جنگلی جانور رکھنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ ان شرائط میں جگہ کا تعین، حفاظتی انتظامات اور محکمہ جنگلی حیات کی اجازت شامل تھی، تاہم عملی طور پر ان ضوابط کی خلاف ورزیاں عام تھیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں نجی افراد کے پاس 500 سے زائد شیر اور دیگر بڑے درندے موجود ہیں جن میں سے کئی غیر قانونی یا نیم قانونی طور پر رکھے گئے ہیں۔
پابندی کے فیصلے کے بعد محکمہ جنگلی حیات نے صوبہ بھر میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اب تک درجنوں شیر اور دیگر بڑے جنگلی جانور تحویل میں لیے جا چکے ہیں، متعدد نجی فارمز سیل کیے گئے ہیں اور خلاف ورزیوں پر مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ضبط کیے گئے تمام جانوروں کو لاہور سفاری پارک منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ان جانوروں کے مستقبل کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا تاہم فی الحال ان کی حفاظت اور مناسب دیکھ بھال محکمہ جنگلی حیات کی ذمہ داری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں کو گھروں، فیکٹریوں یا تنگ نجی فارمز میں رکھنا نہ صرف انسانوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ جانوروں کی فطری زندگی کے بھی منافی ہے۔
پنجاب میں رائج وائلڈ لائف پروٹیکشن، پریزرویشن،کنزرویشن ایںڈ مینجمنٹ ایکٹ کے تحت حکومت نے مخصوص شرائط کے تحت لوگوں کو جنگلی درندے خصوصاً شیر رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
ایس او پیز پر مشکل سے ہی عمل درآمد ہوتا ہے
پاکستان میں جنگلی جانور اور خاص طور پر شیر رکھنا ایک سوشل میڈیا ٹرینڈ بنتا جا رہا ہے: فائل فوٹو اے ایف پی
جنگلی حیات پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر ناصر علی کہتے ہیں کہ ’مجودہ قانون کے تحت ایسے جانوروں کا ایک جوڑا رکھنے لیے کم از کم 22 مرلے جگہ درکار ہوتی ہے اور یہ ایک کنال سے زیادہ ہے۔ جو لوگ اس کاروبار میں ہیں وہ کاغذوں میں تو وہ سب کچھ پورا رکھتے ہیں لیکن زمینی حقائق مختلف ہوتے ہیں جیسے شیر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پبلک ٹرانسپورٹ پر منتقل کرنا، جیسا کہ ایک واقعہ لاہور میں پیش آیا۔‘
’اس سے تو یہ واضع ہے کہ ایس او پیز پر عمل ہوتا ہی نہیں یہی وجہ ہے کہ ابھی نجی طور پر شیر رکھنے کا قانون ختم نہیں ہوا لیکن جہاں بھی وائلڈ لائف والے جا رہے ہیں وہاں پہلے سے قانون کی خلاف ورزی موجود ہے اس لیے یہ پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے۔‘
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ ’عوامی تحفظ اور جنگلی حیات کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے خاتمے کی جانب بڑھنا ضروری ہے۔ تاہم اس پابندی کے مؤثر نفاذ کے لیے مسلسل نگرانی اور سخت عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی بھی شہری خفیہ طور پر ایسے خطرناک جانور نہ رکھ سکے۔ اسی طرح قانون میں بھی کوئی تبدیلی کرنا پڑی تو کریں گے اس وقت تو بس قانون پر عمل درآمد کروایا جا رہا ہے، کئی اجازت نامے منسوخ کیے گئے ہیں۔‘
محکمہ جنگلی حیات نے صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ تاحال 59 بِگ کیٹس (جن میں لاہور ڈویژن سے 20 شیر، جہلم سے 23 کیٹس بشمول 14 ببر شیر، 4 شیر اور 5 ٹائیگرز، ملتان سے 9 شیر، گوجرانوالہ سے 3، سیالکوٹ سے 2 اور فیصل آباد سے 2 شیر شامل ہیں) ضبط کیے جا چکے ہیں۔
کریک ڈاؤن میں 8 سے 10 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، متعدد فارمز سیل کیے گئے اور خلاف ورزیوں پر مقدمات درج کیے گئے۔
تمام ضبط شدہ جانوروں کو لاہور سفاری پارک منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ مستقبل میں ان جانوروں کا کیا بنے گا، اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، لیکن محکمے کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان کی حفاظت اور دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں۔