مسعود اظہر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل

 
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستانی کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے
اقوام متحدہ کی جانب سے بدھ کو لگائی جانے والی پابندی کے بعد پاکستان کے لئے مسعود اظہر کے خلاف فوری کارروائی کرنا اور ان کی تنظیم پر سفری اور ہتھیاروں کی پابندیوں سمیت ان کے مالی اثاثہ جات اورفنڈز کو منجمند کرنا لازمی ہوجائے گا۔
پلوامہ حملے کے بعدانڈیا نے مسعود اظہر کو بلیک لسٹ قرار دلوانے کی کوشش تیز کر دی تھیں جس کے بعدامریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک مشترکہ تجویز پیش کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ 10 روز میں شدت پسند تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دیا جائے، جسے چین نے تکنیکی بنیادوں پر روک دیا تھا۔
یاد رہے کہ انڈیا 2016 سے مسعود اظہر کو اس فہرست میں شامل کرنے کا خواہاں رہا ہے تاہم چین اِس کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی کمیٹی پر سیاست کی مخالفت کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی کمیٹی اجلاس پر پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نےہمیشہ کمیٹی کے تمام تکنیکی معاملات کااحترام کیا اور پابندی کے حوالے سے کمیٹی کے سیاسی استعمال کی مخالفت کی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت، مسعود اظہر کو پابندیوں کی فہرست میں شامل ہونےکو اپنی فتح قرار دے رہا ہے جس کے لیے بھارت نے 5 بار پہلے بھی کوشش کی تھی۔
اقوام متحدہ میں مولانا مسعود اظہر کے حوالے سے ہونے والے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے مسعوداظہر کےخلاف پلوامہ اور کشمیر سےمتعلق اپنا موقف تبدیل کیا ہے اور اب بھارت نے کشمیر سے متعلق الزام واپس لیا ہے، یہ فیصلہ چین کےساتھ مشاورت کےبعد ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب مسعوداظہر کے اثاثے منجمد، سفری پابندی، اسلحے کی خریدوفروخت پرپابندی ہوگی، پاکستان ان پابندیوں پر فوری طور پر عمل درآمد کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے آج تک کسی نے پابندیوں کااطلاق نہ کرنےکی شکایت نہیں کی کیو نکہ پاکستان، اقوام متحدہ کی تمام پابندیوں پر عمل درآمد کرتا ہے۔
 منگل کو یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ اقوامِ متحدہ کی سینکشنز کمیٹی 1267 میں مسعود اظہر کو دہشتگرد قرار دینے کے بارے میں پیش رفت ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے پانچ میں سے تین مستقل اراکین کی جانب سے شدت پسند تنظیم کے سربراہ کو عالمی دہشت گرد قرار دلوانے کی یہ تجویز چوتھی مرتبہ پیش کی گئی ہے، جس کو ماضی میں چین ہمیشہ ویٹو کرتا رہا ہے۔تاہم امریکہ اور انڈیا کی طرف سے امید کی جا رہی تھی کہ اس مرتبہ چین اس تجویز کی مخالفت نہیں کرے گا۔
 
 
 
 

شیئر: