مصر میں ہزاروں برس قبل کا ایک اور مقبرہ دریافت

 
مصر کی وزارت آثار قدیمہ نے اعلان کیا ہے کہ قاہرہ کے مضافاتی علاقے الجیزۃ میں فرعون خفرع کے نجومیوں کا بڑا مقبرہ دریافت ہوا ہے۔ الجیزۃ ہی میں دنیا بھر میں مشہور’’اہرامات‘‘ اور’’ ابوالھول‘‘ کے مجسمے پائے جاتے ہیں۔
آثار قدیمہ کی سپریم کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مصطفیٰ وزیری نے پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ مصری ماہرین نے کھدائی کے دوران خفرع کے پانچویں خاندان کے 2 نجومیوں کی مشترکہ قبر دریافت کی ہے۔ یہ دونوں فرعون خفرع کے عہد میں متعدد عہدوں پر فائز تھے۔

ڈاکٹر مصطفیٰ وزیری کا کہنا ہے کہ قدیم ترین تاریخی مقبرہ ہے جس کا  تعلق فرعون بادشاہ کے پانچویں خاندان کے دور سے ہے۔ یہ خاندان 2500قبل مسیح میں پایا جاتا تھا۔
وزیری نے بتایا کہ قبرستان دو فرضی دروازوں پر مشتمل تھا۔ پہلا دروازہ  ’’بحنویکا‘‘ نامی شخص کا ہے جس میں بحنویکا سمیت ان کی بیوی اور بیٹی کا مجسمہ ملا ہے۔ بحنویکا سات مختلف حکومتی عہدوں پر فائز تھے۔
وزیری نے بتایا کہ دوسرے فرضی دروازے کا تعلق ’’نوی‘‘ نامی شخص سے ہے جو پانچ مختلف سرکاری عہدوں پر فائز تھے۔ 

وزیری نے مزید بتایا کہ تاریخی کھدائیوں کا کام 3برس تک جاری رہے گا اورمزید قبریں دریافت ہونے کی توقع ہے۔
اہرامات مصر کے علاقے میں آثار قدیمہ کے ادارے کے ڈائریکٹر اشرف محی نے بین الاقوامی عرب اخبار ’الشرق الاوسط‘ کو بتایا کہ اس قبرستان سے علاقے میں دریافت ہونے والا خوبصورت ترین نقوش والا تابوت بھی ملا ہے۔

 
 
 
 

شیئر: