قیدی، جسے جیل نے پینٹر بنا دیا

مصر کی ایک جیل کے سابق قیدی یاسمین محمد کی بنائی ہوئی درجنوں تصاویر اور پینٹنگز یہ جھلک پیش کرتی ہیں کہ مصری جیلوں میں قیدیوں کی زندگی کیسی ہے۔
ان کے بنائے ہوئے کچھ خاکے جیل کی زندگی کے درد اور تنہائی کی عکاسی کرتے ہیں تو کچھ خاکوں میں ساتھی قیدیوں کو فرش پر لیٹے، کتابیں پڑھتے اور کھانا پکاتے دکھایا گیا ہے۔
حکومت مخالف مظاہروں میں شمولیت کی وجہ سے یاسمین محمد پہلی بار 2013میں گرفتار ہوئے اور پانچ سال جیل کاٹی۔ گرفتاری کے وقت ان کی عمر 18برس تھی۔
یاسمین نے قید تنہائی سے پیچھا چھڑانے، وقت گزاری اور جیل میں جرائم پیشہ عناصر سے بچنے کے لیے پینٹنگز بنانا شروع کیں۔
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے یاسمین محمد نے بتایا کہ’میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ قید تنہائی سے نمٹنے کے لیے کیا کروں۔ پینٹنگز بنانے سے مجھے تحمل ملتا ہے اور میں ان لوگوں سے بھی دور رہتا ہوں جو مجھے نقصان پہنچاتے ہیں۔‘
یاسمین کی بہت سی پینٹنگز میں ہجوم جیلوں اور ان کے قیدیوں کے دیواروں پر لٹکتے بستے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک پینٹگ میں ایک قیدی کو پردے کے پیچھے باتھ روم میں سر پکڑے بیٹھے دکھایا گیا ہے۔
یاسمین کہتے ہیں کہ ’بسا اوقات آپ لوگوں کے درمیان اپنے احساسات نہیں دکھا پاتے اور آپ باتھ روم میں چلے جاتے ہیں۔ یہاں آپ رو سکتے ہیں اور جب تک خاموش ہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
یاسمین نے ایک اور تصویر میں ایک قیدی کو سورج کی کرنوں میں قرآن پاک پڑھتے ہوئے دکھایا ہے۔

یاسمین کے بقول یہ قیدی ہر روز قرآن پڑھنے کے لیے سورج کی کرنوں میں بیٹھتا تھا۔ اس کے علاوہ بہت سے قیدی گھر سے آنے والا یا کینٹین سے خریدا گیا کھانے کا سامان پکاتے تھے جس سے جیل میں دن بھر کھانے کی خوشبو رہتی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آپ کو ہر روز ہر وقت پیاز کی خوشبو آتی ہے، جیل میں ہر کوئی پیاز کھاتا ہے۔‘
لہٰذا ان کی ایک تصویر ایک ایسے قیدی کو دکھاتی ہے جس کے سر کی جگہ پر پیاز ہیں۔ خیال رہے کہ اخوان المسلمین  سے تعلق رکھنے والے مصر کے سابق صدر محمد مورسی کی 2013 میں معزولی کے بعد سے  مذہبی اور لبرل سوچ کے حامی مصری شہریوں کے خلاف کریک ڈاون ہوا۔
انسانی حقوق کی مقامی اور عالمی تنظیموں کے مطابق اس کریک ڈاون میں ہزاروں شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم موجودہ مصری صدر فاتح السیسی کہتے ہیں کہ ان کی حکومت نے سیاسی بنیادوں پر کسی کو گرفتار نہیں کیا۔

شیئر: