اقامہ ممیزہ والوں کے لیے کیا پابندیاں ہوں گی؟

سعودی عرب کی حکومت نے وہاں مقیم غیر ملکیوں کے لیے ایک منفرد اقامے یعنی 'اقامہ ممیزہ' کے قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت غیرملکیوں کو مختلف فوائد حاصل ہوں گے، لیکن ان پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوں گی۔

اس اقامے کو حاصل کرنے والے افراد کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ وہ مکہ، مدینہ اور سرحدی علاقوں میں جائیداد نہیں خرید سکیں گے، تاہم انہیں سعودی عرب کے دیگر شہروں میں جائیداد کی خرید و فروخت اور اسے کرائے پر دینے کی اجازات ہو گی۔
 رکن شوری کونسل بریگیڈئیر جنرل محسن ابراہیم شیعانی نے عربی روز نامے عکاظ سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ مملکت میں دائمی یا عارضی طور پر اقامت کے خواہشمندغیر ملکیوں کو منفرد اقامہ فراہم کرنے کی شوری کونسل کی تجویز کی منظوری کے بعد اس کے مختلف نکات پر بحث جاری ہے تاکہ مقررہ ضوابط کے تحت قانون سازی کی جائے.
منفرد اقامہ پروگرام کا مقصد ان تارکین کو زیادہ سے زیادہ مراعات فراہم کرنا ہے جو مذکورہ اقامہ پروگرام کے تحت سعودی عرب میں قیام کرنا چاہتے ہیں ۔ منفرد اقامہ حاصل کرنے والوں کو تعلیم ،صحت اور دیگر شعبوں میں  وہی حقوق حاصل ہونگے جو ایک مقامی شہری کو حاصل ہیں۔
رکن مجلس شوری شیعانی نے مزید کہا کہ منفرد اقامہ پروگرام کے بارے میں تفصیلات سے جلد آگاہ کر دیا جائے گا، تاہم اس  کی فیس مقرر کی جائے گا۔
منفرد اقامہ ہولڈر کے لئے لازمی ہے کہ اس کا ماضی بے داغ ہو اور وہ کسی قسم کے جرائم میں ملوث نہ رہا ہو.

واضح رہے سعودی مجلس شوری نے مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کے لئے نئے اقامہ پروگرام کے تحت " منفرد اقامہ اسکیم "  کے عنوان سے منصوبہ شوری کونسل میں پیش کیا،جسے 76 ارکان شوری کی حمایت حاصل رہی جبکہ 55 نے اس منصوبے پر اعتراض کیا ۔
منفرد اقامہ اسکیم کے تحت وہ غیر ملکی جو اس کیٹگری میں شامل ہونا چاہتے ہیں انہیں کافی مراعات حاصل ہونگی ۔ تاہم ابھی تک سعودی عرب میں مقیم تارکین  اقامہ کے بارے میں مزید تفصیلات کے منتظر ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اس اقامہ کی فیس کے بعد تارکین کے اہل خانہ پر عائد فیس ختم کی جائے تو مزید بہتر ہو گا۔

شیئر: