Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپر ٹیکس درست قرار، وفاقی آئینی عدالت کا برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کو درست قرار دیتے ہوئے اس کو برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔
فیصلہ منگل کو سپر ٹیکس کیس کے معاملے کی سماعت کے بعد سنایا اور ان فیصلوں کو جزوی طور پر کالعدم قرار دیا جو ہائی کورٹس نے انکم آرڈیننس کے سیکشن فور سی کے تحت سنائے تھے۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ نے کی جس میں جسٹس حسن رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ شامل تھے۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے کیس کا مختصر فیصلہ سنایا اور کیس کے قابل سماعت ہونے پر لگائے گئے اعتراضات مسترد کر دیے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن فور بی 2015 کو برقرار رکھا جائے گا اور سیکشن سی کے تحت ہائیکورٹس کی جانب سے دیے گئے فیصلے جزوی طور پر کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔
 فیصلے کے مطابق مضاربہ، میوچل فنڈز اور بینوولنٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا جبکہ مختلف شعبوں سے متعلق الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی۔
سپر ٹیکس کے کیس سماعت مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو چند گھنٹے بعد سنایا گیا۔
خیال رہے جون 2022 میں وفاقی حکومت نے بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے سپر ٹیکس نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا معیشت کو بہتر بنانے کے لیے امیر طبقے پر ٹیکس لگا کر غریبوں کو فائدہ پہنچایا جائے گا۔ 
اس کے بعد معاشی ماہرین کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ یہ ایک ایسا ٹیکس ہوتا ہے جو حکومتیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدن پر اضافی طور پر لگاتی ہیں۔

حکومت نے 2022 کے بجٹ میں سپر ٹیکس نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’شہریوں یا ایک خاص طبقے پر لگائے جانے والے اضافی ٹیکسوں کے بعد ان کی ٹیکس کی مد میں آنے والی آمدن کے اوپر کچھ فیصد کا مزید ٹیکس سپر ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے۔‘
اے پی پی کے مطابق پیر کو ہونے والی سماعت کے موقع پر ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے مختلف ہائی کورٹس میں سپر ٹیکس کے خلاف دائر کی گئی 150 رٹ پٹیشنز کی فہرست عدالت میں پیش کی تھی۔
ان کا موقف تھا کہ جب ایک ہائی کورٹ کسی قانون کی شقوں کو درست قرار دے دے تو اسی قانون کو دوسری ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
ایف بی آر کی وکیل کے مطابق اس وقت 29 فیصد نارمل انکم ٹیکس نافذ ہے جبکہ سپر ٹیکس 10 فیصد اضافی چارج کے طور پر قانون کا حصہ ہے اور قابل ادائیگی ہے۔
اسی طرح ریونیو ڈویژن کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے اپنے دلائل میں بھی کہا تھا کہ سپر ٹیکس پارلیمنٹ کے خصوصی ٹیکس اختیار کے تحت مکمل طور پر آئینی ہے۔
سماعت کے بعد کیس کی سماعت آج 27 جنوری تک ملتوی کر دی گئی تھی۔

 

شیئر: