سپر ٹیکس درست قرار، وفاقی آئینی عدالت کا برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ
وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کو درست قرار دیتے ہوئے اس کو برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔
فیصلہ منگل کو سپر ٹیکس کیس کے معاملے کی سماعت کے بعد سنایا اور ان فیصلوں کو جزوی طور پر کالعدم قرار دیا جو ہائی کورٹس نے انکم آرڈیننس کے سیکشن فور سی کے تحت سنائے تھے۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ نے کی جس میں جسٹس حسن رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ شامل تھے۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے کیس کا مختصر فیصلہ سنایا اور کیس کے قابل سماعت ہونے پر لگائے گئے اعتراضات مسترد کر دیے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن فور بی 2015 کو برقرار رکھا جائے گا اور سیکشن سی کے تحت ہائیکورٹس کی جانب سے دیے گئے فیصلے جزوی طور پر کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔
فیصلے کے مطابق مضاربہ، میوچل فنڈز اور بینوولنٹ فنڈز پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہو گا جبکہ مختلف شعبوں سے متعلق الگ قانونی رعایتیں برقرار رہیں گی۔
خیال رہے سپر ٹیکس کے کیس سماعت مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو چند گھنٹے بعد سنایا گیا۔