’ابوظہبی میری ملکیت ہے، مجھے میری ملکیت واپس کرو‘

عرب ملک کے ایک بوڑھے خودساختہ ارب پتی نے ابوظہبی کے شہریوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔اس نے ابوظہبی کی عدالتوں میں بینکوں اور کمپنیوں پر مقدمات کی بھرمارکر دی ۔ 
نادار بوڑھے ارب پتی کویہ وہم ہو گیا ہے کہ ابوظہبی کے شہری اس کے آبائو اجداد کی زمین پر ناجائز قبضہ کئے ہوئے ہیں ۔بوڑھے کا خیال ہے کہ جنات کی مدد سے اس کے آبائو اجداد نے سونے ، چاندی ، الماس ، ہیرے جواہرات کا غیر معمولی ذخیرہ ابوظہبی منتقل کیا تھا۔یہ سینکڑوں برس پرانی کہانی ہے ۔
بوڑھا نادار عرب شہری جس کے کپڑے غلیظ اور گندے ہیں ۔ ابوظہبی کے باشندے اسے نادار ارب پتی (الملیار دیر الفقیر)کہنے لگے ہیں ۔یہ ابوظہبی کی سول اور فوجداری کی عدالتوں میں مقدمات کثیردائر کیے ہوئے ہے جبکہ اس کے خلاف بھی مقدمات ہیں ۔
ابوظہبی کی عدالتوں کے جج ، اہلکار ، وکلاء ، چپراسی سب اسے دیکھتے ہی پہچان جاتے ہیں ۔ ہرکوئی اس کو اپنے پاس بٹھا کر اس کی افسانوی کہانیاں سنتا ہے 
نادار ارب پتی نے اپنے تمام مقدمات میں ایک بات بڑی پابندی سے کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ’اس کے آبائو اجداد ابوظہبی میں ایک پلاٹ کے زیر زمین حصے کے مالک تھے انہوں نے اپنے اصل وطن میں واقع مکان سے لے کر ابوظہبی تک زمین دوز راستہ جنات کی مدد سے تیار کیا تھا ‘اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے آبائو اجداد جنات کو مسخر کیے ہوئے تھے ۔ زمین دوز راستہ تیار کرنے کے بعد 100اونٹوں پر سونا ، زیورات اور ہیرے جواہرات ابوظہبی منتقل کیے گئے تھے۔دفینے کی حفاظت جادو کی مدد سے کی جاتی رہی ۔ دفینے کی جگہ کا نقشہ اور جادوئی حل کے خفیہ اشارے ترتیب دئیے تھے ۔ یہ راز نسل در نسل منتقل ہوتے ہوتے اس تک پہنچا ہے ۔ 
نادار ارب پتی کا کہنا ہے کہ اب جب اس نے یہ دیکھا کہ ابوظہبی میں غیر معمولی ترقی ہو رہی ہے ،فلک بوس عمارتیں قائم ہو رہی ہیں اس نے یہاں پہنچ کر آبائو اجداد کا خزانہ ڈھونڈنے کا پروگرام بنایا کہ کہیں کھدائی کے دوران خزانہ کسی کے ہاتھ نہ لگ جائے ۔ 
اس نے پہلے ابوظہبی کی ایک عدالت میں یہ عرضی پیش کی کہ ابوظبی کے4 شہریوں نے جنات کی مدد سے اس کے آبائو اجداد کے دفینے میں سے 1260کلوگرام سونا چوری کر لیا ہے ۔ عدالت نے اس کی درخواست داخل رجسٹرڈکرلی۔ پھر اس نے ایک اور مقدمہ ابوظہبی کی سول کورٹ میں درج کرایا جس میں اس نے ایک بینک ، 2کمپنیوں اور 13افراد پر جادو ٹونے کی مدد سے آبائو اجداد کے خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کا الزام عائد کیا ۔
نادار ارب پتی نے تیسرا مقدمہ مسجد میں سونے پر امام اور ایشیائی کے ساتھ جھگڑے اور امام پر حملہ کرنے کے بعد ابوظہبی کی سول کورٹ میں دائر کیا ۔نادار ارب پتی نے عجیب و غریب موقف اختیار کیا اورکہا کہ ایشیائی اور مسجد کا امام آلہ کار بنے ہیں ۔ انہیں میرے خلاف اکسانے والی وہ کمپنی ہے جس نے عمارت تیار کی ہے ۔کمپنی عمارت کے نیچے موجود دفینے پر قبضہ کرنے کا چکر چلائے ہوئے ہے ۔ نادار ارب پتی نے کمپنی سے 10لاکھ درہم معاوضے کا بھی مطالبہ کر دیا۔
خود ساختہ ارب پتی جس مکان میں رہائش پذیر ہے اس نے اس کے مالک کو بھی نہیں بخشا ۔بتایا جاتا ہے کہ مکان انتہائی ناگفتہ بے حالت میں ہے ۔ اس میں نصب اے سی معطل پڑے ہوئے ہیں ۔ فلیٹ کی چھت ٹپک رہی ہے۔مکان میں جگہ جگہ پانی رس رہا ہے ۔ نادار ارب پتی مکان کا کرایہ نہیں دے رہا تھا مالک نے اسے مکان خالی کرنے کا کہا تو اس پر اس نے مالک کے خلاف عدالت میں یہ دعویٰ دائر کر دیا کہ یہ مکان جس پلاٹ پر بنایا گیا ہے وہ اس کے بزرگوں کی میراث ہے ۔ ایک کمپنی کی مدد سے مکان کا مالک اس پر قبضہ جمائے ہوئے ہے ۔ اس پلاٹ کے نیچے اس کے آبائو اجداد کا خزانہ دفن ہے ۔ مکان کے مالک کو کہیں سے اس کا علم ہو گیا ہے اسی لئے وہ اسے مکان سے نکالنے کے در پے ہے۔
 

شیئر: