کوئٹہ میں دھماکہ: چار پولیس اہلکار ہلاک، 12 افراد زخمی

 پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم دھماکے میں حکام کے مطابق چار پولیس اہلکار ہلاک اور 12 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 11 راہ گیر اور نمازی شامل ہیں۔
کوئٹہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس عبدالرزاق چیمہ کے مطابق دھماکا پیر کی رات 8 بجکر 35 منٹ پر کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاون منی مارکیٹ میں ایک مسجد کے باہر ہوا جہاں پولیس کی دو گاڑیاں نماز تراویح کے وقت سیکیورٹی فراہم کرنے کیلئے موجود تھیں۔ ڈی آئی جی کے بقول دھماکے میں پولیس کو ہدف بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں پولیس کے ریپیڈ رسپانس گروپ کےچار اہلکار ہلاک ہوئے۔
دھماکے کے زخمیوں کو پولیس کی گاڑی اور ایمبولنسز میں قریب واقع نجی اسپتال اور بعد ازاں سول اسپتال پہنچایا گیا۔ اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم احمد بیگ کے مطابق سول اسپتال کے ٹراما سینٹر ایمرجنسی روم میں لائے گئے 12 زخمیوں میں ایک پولیس اہلکار عقیل احمد شامل تھے جس کی حالت تشویشناک تھی۔ باقی تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
دھماکے کی جگہ کو پولیس اور ایف سی نے گھیرے میں لے لیا۔ پولیس کے انسداد دہشتگردی محکمہ، اسپیشل برانچ اور کرائم برانچ کے اہلکاروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلئے۔
ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے جائے وقوعہ کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ دھماکا موٹر سائیکل پر نصب بم کے ذریعے کیا گیا تاہم دن کی روشنی میں جائے وقوعہ کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد حتمی طور پر معلوم ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکہ سیکیورٹی لیپس نہیں تھا۔ سیکیورٹی فراہم کرنے والوں کو ہی نشانہ بنایا گیا۔
ڈی آئی جی نے کہا ک کہ ہم تو اپنا کام کرتے رہیں گے۔ تفتیش کے ذریعے جیسے پہلے ہم ان (حملہ آوروں) تک پہنچتے رہے ہیں اب بھی پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کی تحقیقات پولیس کے انسداد دہشتگردی محکمہ (سی ٹی ڈی) کے ساتھ ملکر کی جائے گی۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں چھ  سے سات کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا جس سے پولیس کی دو گاڑیوں کے علاوہ دو نجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سول اسپتال انتظامیہ کے مطابق ہلاک پولیس اہلکاروں میں محمد اسحاق اور ذوالفقار کا تعلق بلوچستان کے ضلع لسبیلہ، ذوالفقار جھل مگسی جبکہ مشتاق شاہ کا تعلق ضلع جعفرآباد سے تھا۔
دوسری جانب دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔
بلوچستان میں رواں ہفتے دہشتگردی کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 11مئی کو گوادر میں نجی ہوٹل پرشدت پسندوں کے حملے میں تین حملہ آوروں سمیت اآٹھ افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے تھے۔ 10 مئی کوہرنائی میں بھی کالعدم تنظیم کی جانب سے فائرنگ اور بم حملے میں دو ایف سی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

شیئر: