Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کا نیٹو کے فوجیوں سے متعلق بیان تضحیک آمیز، معافی مانگیں: برطانوی وزیراعظم

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے صدر ٹرمپ کے اُس بیان کو تضحیک آمیز اور شرمناک قرار دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’نیٹو کے فوجی افغانستان میں فرنٹ لائن پر نہیں لڑے۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق کیئر سٹارمر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے ان بیانات کو تضحیک آمیز اور سچ کہوں تو انتہائی شرمناک سمجھتا ہوں۔ مجھے اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہے کہ ان باتوں نے اُن افراد کے اہلِ خانہ کو گہرا دُکھ پہنچایا ہوگا جن کے پیارے اس جنگ میں ہلاک یا زخمی ہوئے۔‘
برطانوی وزیراعظم سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکی صدر سے معافی کا مطالبہ کریں گے تو ان کا جواب کچھ یوں تھا کہ ’اگر میں نے اس طرح کی غلط بات کہی ہوتی یا ایسے الفاظ استعمال کیے ہوتے تو میں یقیناً معافی مانگتا۔‘
برطانیہ کے شہزادہ ہیری، جنہوں نے خود افغانستان میں خدمات انجام دیں، نے بھی اس بیان پر ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ان قربانیوں کا ذکر سچائی اور احترام کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ ہم نے اس اتحاد کے لیے خون کی قیمت ادا کی ہے۔‘
ایک ریٹائرڈ پولش جنرل اور خصوصی فورسز کے سابق کمانڈر رومن پولکو، جو افغانستان اور عراق میں خدمات انجام دے چکے ہیں، نے کہا کہ ‘ہم اس بیان پر معافی کی توقع رکھتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’امریکی صدر نے سُرخ لکیر عبور کر لی ہے۔ ہم نے اس اتحاد کے لیے اپنے خون کی قربانی دی ہے، اور واقعی اپنی جانیں نچھاور کیں۔‘
برطانیہ کے وزیر برائے سابق فوجی امور ایلسٹیر کارن جنہوں نے اپنی سروسز میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ہمراہ افغانستان کے پانچ دورے کیے، نے صدر ٹرمپ کے دعووں کو ’سراسر مضحکہ خیز‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے خون، پسینہ اور آنسو اکٹھے بہائے، اور سب لوگ واپس گھر نہیں لوٹے۔‘

امریکی صدر نے کہا تھا کہ (نیٹو والوں) نے فوجی بھیجے بھی، لیکن وہ تھوڑا پیچھے رہے، فرنٹ لائن سے ذرا دُور‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)

نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے انہیں غلط اور توہین آمیز قرار دیا ہے۔
جمعرات کو امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ بظاہر اس بات سے لاعلم نظر آئے کہ امریکہ پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد برطانیہ کے 457 فوجی افغانستان میں لڑتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
انٹرویو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ (نیٹو والے) کہتے ہیں کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے تھے۔‘ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’اور انہوں نے فوجی بھیجے بھی، لیکن وہ تھوڑا پیچھے رہے، فرنٹ لائن سے ذرا دُور۔‘
حقیقت یہ ہے کہ نائن الیون حملوں کے بعد برطانیہ اور کئی دیگر اتحادی ممالک نے افغانستان میں امریکہ کا ساتھ دیا۔
برطانیہ کے علاوہ نیٹو کے دیگر اتحادی ممالک جیسے کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور ڈنمارک کے فوجی بھی اس جنگ میں ہلاک ہوئے۔
برطانوی وزیر برائے سوشل کیئر سٹیفن کنوک نے کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ ’وزیرِاعظم کیئر سٹارمر یہ معاملہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے اٹھائیں گے۔‘
 

شیئر: