پاکستان میں ہُنرمندوں کے لیے سرٹیفیکیٹ، خلیجی ممالک جانے والے ورکرز کو کیا فائدہ ہوگا؟
پاکستان میں ہُنرمندوں کے لیے سرٹیفیکیٹ، خلیجی ممالک جانے والے ورکرز کو کیا فائدہ ہوگا؟
ہفتہ 24 جنوری 2026 5:15
بشیر چوہدری، اردو نیوز۔ اسلام آباد
وزارت اوورسیز پاکستانیز کے مطابق ’خلیجی ممالک میں سکل سرٹیفیکیشن اب ایک لازمی شرط بن چکی ہے‘ (فائل فوٹو: گیٹی امیجز)
خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب میں ہُنرمند محنت کشوں کے ہُنر کی جانچ اور سرٹیفیکیشن کا سخت نظام رائج ہونے کے بعد اب پاکستان میں سرکاری سطح پر ہُنرمند افراد کو سرٹیفیکیٹ دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔
پاکستان کے ادارہ برائے فنی و پیشہ ورانہ تربیت نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں ہُنر کی مانگ اور اس سلسلے میں قوانین کے نفاذ کے پیشِ نظر فنی شعبوں میں سرٹیفیکیشن کا نیا اور سادہ نظام متعارف کرا دیا ہے۔
نیوٹیک کی جانب سے متعارف کرائے گئے اس اقدام کا مقصد برسوں سے کام کرنے والے کاریگروں کو سرکاری طور پر تسلیم شدہ سرٹیفیکیٹ فراہم کرنا ہے۔
پاکستان سے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے محنت کشوں کی اکثریت کا تعلق الیکٹریشن، پلمر، مکینک اور دیگر فنی شعبوں سے ہوتا ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اوورسیز پاکستانی محنت کشوں میں 62 فیصد سے زائد مزدور پیشہ افراد شامل ہیں، مگر ان میں سے بڑی تعداد محض تجربے کی بنیاد پر کام کرتی ہے اور ان کے پاس اپنی مہارت کا کوئی تحریری یا سرکاری ثبوت موجود نہیں ہوتا۔
’یہی وجہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد کے باوجود یہ طبقہ وہ ترسیلاتِ زر نہیں لا پاتا جو باضابطہ سرٹیفیکیشن رکھنے والے کم تعداد میں محنت کش حاصل کر لیتے ہیں۔‘
خلیجی ممالک میں لیبر پالیسی میں آنے والی تبدیلیوں نے اس خلا کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ سعودی عرب کی وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی نے جولائی 2021 میں ’پروفیشنل ویریفیکیشن پروگرام‘ شروع کیا، جس کے تحت غیرملکی محنت کشوں کی تحریری اور عملی جانچ کو لازمی قرار دیا گیا۔
اس کے بعد سعودی عرب آنے کے خواہش مند افراد کے لیے بھی اُن کے اپنے ممالک میں مہارت اور اسناد کی تصدیق کا باقاعدہ نظام نافذ کر دیا گیا، جس کے باعث غیرمصدقہ محنت کشوں کے لیے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
اسی بدلتی صورت حال کے پیشِ نظر نیوٹیک نے نجی شعبے کے تعاون سے سابقہ عملی مہارت کی باقاعدہ پہچان کا نظام فعال کیا ہے، جس کے تحت ابتدائی طور الیکٹریشن اور پلمر اپنے اپنے شعبوں میں سرکاری سرٹیفیکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
62 فیصد اوورسیز پاکستانی محنت کشوں کے پاس اپنی مہارت کا کوئی تحریری یا سرکاری ثبوت نہیں ہوتا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اس مقصد کے لیے ’آباد‘ کے اشتراک سے یہ سرٹیفیکیشن پروگرام ٹریس پاکستان کے ذریعے پیش کیا جا رہا ہے، جسے فیلڈ میں کام کرنے والے کاریگروں کے لیے نہایت سادہ اور قابلِ عمل رکھا گیا ہے۔
اس نظام کے تحت سرٹیفیکیشن کے خواہش مند کاریگروں کو کسی طویل تربیتی کورس یا کلاس میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں۔ طریقۂ کار کے مطابق امیدوار صرف ایک آن لائن فارم کے ذریعے اپنی بنیادی معلومات، کام کا شعبہ اور تجربے کی تفصیلات فراہم کرتے ہیں۔
ایک سے دو سال یا اس سے زائد عملی تجربہ رکھنے والے کاریگروں کو بعد ازاں ایک عملی امتحان سے گزارا جاتا ہے، جہاں مستند ماسٹر ٹرینرز ان کے کام کو براہِ راست دیکھتے ہیں، ان کی مہارت، معیار اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا معائنہ کرتے ہیں۔
اگر ماسٹر ٹرینرز کی جانچ کے بعد یہ طے ہو جائے کہ امیدوار مطلوبہ معیار پر پورا اترتا ہے تو اسے سرکاری طور پر تسلیم شدہ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔
نیوٹیک سے منسلک ذرائع کے مطابق یہ سرٹیفیکیٹ نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرونِ ملک بھی سرکاری سطح پر قابلِ قبول ہوگا، جس کے باعث ایسے محنت کشوں کے لیے خلیجی ممالک میں روزگار کے دروازے نسبتاً آسانی سے کھل سکیں گے۔
عالمی لیبر منڈی میں اب محض محنت کافی نہیں، بلکہ مہارت کی دستاویزی تصدیق ہی محفوظ مستقبل کی کُنجی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ماہرین کے مطابق ’اس سرٹیفیکیشن کے بعد نہ صرف پاکستان میں ان کاریگروں کی اُجرت اور معاوضے میں اضافہ متوقع ہے بلکہ بیرونِ ملک ان کی آمدن میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔‘
’بہتر آمدن کے نتیجے میں ان محنت کشوں اور ان کے اہلِ خانہ کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا، جبکہ قومی سطح پر اس کا براہِ راست فائدہ پاکستان کی ترسیلاتِ زر میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا۔‘
وزارت اوورسیز پاکستانیز کے حکام کے مطابق خلیجی ممالک میں سکل سرٹیفیکیشن اب ایک لازمی شرط بن چکی ہے، اور اگر پاکستانی محنت کشوں کو سرکاری سطح پر مہارت کا ثبوت فراہم نہ کیا گیا تو وہ عالمی لیبر منڈی میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔
نیوٹیک اور نجی اداروں کے اشتراک سے شروع ہونے والا یہ نظام نہ صرف اس خلا کو پُر کرتا ہے بلکہ پاکستان کو ہُنرمند افرادی قوت برآمد کرنے والے ممالک کی صف میں مضبوط مقام دلانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
بدلتی ہوئی عالمی لیبر منڈی میں اب یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ محض محنت کافی نہیں، بلکہ مہارت کی دستاویزی تصدیق ہی بہتر روزگار، زیادہ آمدن اور محفوظ مستقبل کی کُنجی بن چکی ہے۔