سری لنکا میں مسلمان مخالف فسادات، ایک شخص قتل

گذشتہ رات ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔ تصوریر: اے ایف پی
سری لنکا کے وزیراعظم رانیل وکرماسنگھے نے کہا ہے کہ ملک میں جاری حالیہ مذہبی فسادات ایسٹر کے موقع پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
سری لنکا میں اتوار کو شروع ہونے والے فسادات میں شدت آنےکے بعد گذشتہ رات ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔
وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرفیو کے نفاذ کا مقصد نا معلوم گروہوں کو ملک کو غیر مستحکم کرنے سے روکنا ہے۔
اتوارکو شروع ہونے والے فسادات تین شمال مغربی اضلاع میں پھیل گئے تھے جن میں مساجد اور مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔ 
اپریل کو عیسائیوں کے مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر ہونے والے حملوں میں 250 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد سے اب تک صورتحال کشیدہ ہے۔21 
کرفیو کے نفاذ کے باوجود گذشتہ رات مشتعل افراد نے ایک مسلمان شخص پر حملہ کر کے اسے ہلاک کر دیا تھا۔
سری لنکن حکام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے مسلمان شخص کو اس کی کارپنٹری کی دکان میں تیز اوزاروں سے حملہ کر کے ہلاک کیا۔
 چرچ حملوں کے ردعمل میں جاری فرقہ وارانہ فصادات کے نتیجے میں ہونے والی یہ پہلی ہلاکت ہے۔
شمال مغربی شہر کنیاما میں میں مسجد کو نقصان پہنچایا گیا اور قرآن کی کاپیاں زمین پر پھینکی گئیں۔
عیسائی اکثریت والے چیلاو نامی شہر میں فیس بک پر نتازعہ شروع ہونے کے بعد مساجد اور مسلمانوں کی دکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ فیس بک پر منتازعہ بیان لکھنے والے 38 سالہ مسلمان شخص کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
سری لنکن حکام نے فسادات روکنے کے لیے سماجی رابطوں کی  ویب سائیٹس فیس بک اور واٹس ایپ بند کر دی ہیں۔
سری لنکا کی دو کروڑ بیس لاکھ کی آبادی میں زیادہ تر بدھ مت مذہب کے ماننے والے ہیں جبکہ مسلمانوں کی شرح صرف 10 فیصد ہے۔

شیئر: