عالمی طاقتوں کی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی رسہ کشی

دنیا میں 120 کے قریب آبی گزرگاہوں میں 10 کوغیر معمولی اہمیت حاصل ہیں جن میں آبنائے ہرمز سرفہرست ہے۔
عالمی سطح پر آبنائے ہرمز  سٹریٹیجک، سیاسی اور اقتصادی اہمیت کی حامل ہے، اس گزرگاہ سے دنیا بھر میں تیل کی کل رسد کا 40 فیصد گزرتا ہے۔
حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کی بندر گاہ الفجیرہ میں دو سعودی جہازوں پر حملے سے آبنائے ہرمز کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد علی جعفری نے انتباہ کیا تھا کہ ’آبنائے ہرمز یا تو سب استعمال کریں یا کوئی بھی نہیں۔‘
آبنائے ہرمز خلیج عرب میں واقع ہے۔ اس کے ایک طرف خلیج عرب، دوسری جانب خلیج عمان، بحرالعرب اور بحر ہند آتے ہیں۔ یہ عراق، کویت، بحرین اور قطر کی واحد بحری گزرگاہ ہے۔
 آبنائے ہرمز کے شمال میں ایران (بندرعباس) اور جنوب میں سلطنت عمان (مسندم ) واقع ہے۔

آبنائے ہرمزکی تاریخ اور محل و قوع

کہا جاتا ہے کہ یہ گزرگاہ قدیم سلطنت ’ہرمز‘ کے وسط میں واقع تھا۔ اسی وجہ سے اسے ہرمز کا نام دیا گیا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے ہرمز اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ فارس کے ایک بادشاہ کا نام تھا جبکہ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس گزرگاہ کا نام ایران کے ماتحت مکران ساحل پر واقع ہرمز نامی جزیرے سے منسوب ہے۔
آبنائے ہرمز متعدد غیر آباد چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے ۔ سب سے بڑا ایرانی جزیرہ قشمالہ ہے اس کےعلاوہ لارک اور ہرمز جزیرے بھی اس کا حصہ ہیں۔
ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تنازع کا باعث بننے والے تینوں جزیرے طنب الکبریٰ ، طنب الصغرہ اور ابوموسیٰ بھی اسی آبنائے سے جڑے ہوئے ہیں ۔
آبنائے ہرمز کا عرض50 کلومیٹر ہے (تنگ ترین  پوائنٹ 34 کلومیٹر کا ہے) آبنائے ہرمز صرف 60 میٹر گہرا ہے یہاں سے روزانہ 20 تا 30 آئل ٹینکر گزرتے ہیں۔ ہر چھ منٹ میں اوسطاً ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمزعبور کرتا ہے ۔

آبنائے ہرمز اور بین الاقوامی قانون

کوئی بھی آبنائے بین الاقوامی قانون کی نظر میں عالمی سمندر کا حصہ ہے۔ ساحلی ممالک کی سلامتی اور ان کے امن وامان اور قانون کو نقصان پہنچائے بغیر ہر جہاز کو آبنائے سے گزرنے کا قانونی حق حاصل ہے ۔
30اپریل 1982ء کو سمندری قانون کا بین الاقوامی معاہدہ منظور کیا گیا۔ اس  قانون کی دفعہ 38 میں یہ بات شامل ہے کہ ’’تمام جہازوں کو آبنائے ہرمز سمیت بین الاقوامی آبنائوں سے گزرنے کا حق ہے کسی کو رخنہ اندازی کا اختیار نہیں ۔ یہاں سے تجارتی یا فوجی جہازوں کو گزرنے کی آزادی ہے‘‘۔

ایران نے سمندری قانون کانفرنس (جنیوا1958-60ء) میں آبنائے ہرمز کی نگرانی کا حق دینے کا مطالبہ کیا تھا جسے کانفرنسوں کے تمام شرکاء نے مسترد کر دیا تھا ۔ 30اپریل 1980ء کو منعقدہ سمندری قانون کانفرنس میں بھی ایران نے اپنا یہ مطالبہ دہرایا جسے تیسری مرتبہ مسترد کر دیا گیا ۔آگے چل کر اپریل میں 1982ء میں آبنائوں کے تحفظ کا بین الاقوامی قانون جاری کر دیا گیا۔

آبنائے بند کرنے کی ایرانی دھمکی کے اثرات

ایران 1988ء سے دھمکی دے رہا ہے کہ اگر اس کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ آبنائے ہرمز بند کر دے گا ۔ایران نے 2008ء اور2012ء میں بھی یہ دھمکیاں دہرائیں۔ 2019ء میں بھی ایران نے دھمکیوں کا اعادہ کیا لیکن کبھی ان پر عمل نہیں کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہونے سے چین کو بھاری نقصان پہنچے گا جو پوری دنیا میں ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات، کویت اورعراق کی بیشتر تیل برآمدات آبنائے ہرمز سے ہوکر گزرتی ہیں۔ قطر سیال گیس کی بیشتر پیداواراسی راستے سے دنیا بھر کو برآمد کرتا ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جب جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا عندیہ دیا تو تیل کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے ممالک نے آبنائے ہرمز بند ہونے کی صورت میں تیل کی برآمدات کے متبادل راستے اپنانے کی تیاریاں کر رکھی  ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اماراتی آئل فیلڈ کو بحرِ عرب سے 240کلو میٹر طویل پائپ لائن سے جوڑ دیا ہے ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ امارات کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت ختم یا کم ہو گئی ہو۔
جاپان، ہندوستان اور جنوبی کوریا کی تیل درآمدات کی اہم گزرگاہ بھی آبنائے ہرمز ہی ہے۔
سعودی عرب نے 2001ء کے دوران عراق کے راستے تیل پائپ لائن قائم کی تھی اس کے ذریعے یومیہ 1.65ملین بیرل تیل کی ترسیل ممکن ہے ۔ یہ پائپ لائن عراق سے سعودی عرب ہوتے ہوئے بحرِ احمر کی بندرگاہ تک بچھائی گئی۔ اسے بند کر دیا گیا تھا تاہم جون 2012ء میں اسے بحال کر دیا گیا ۔

بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی

ماضی میں برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ کے درمیان آبنائے ہرمز پر رسہ کشی رہی ہے۔ ایک زمانے میں سوویت یونین نے آبنائے ہرمز تک رسائی کی مہم چلائی۔ امریکہ نے بھی آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے لیے  خطے کے ممالک کے ساتھ  سیاسی ، تجارت اور عسکری تعلقات مضبوط  کیے۔
 

شیئر: