سعودی عرب کی خاتون ٹیکسی ڈرائیور کا عزم کیا ہے؟

جوہرہ حمدی ’ایپ‘ ٹیکسی سروس میں بطور ڈرائیور
جوہرہ حمدی ’ایپ‘ ٹیکسی سروس میں بطور ڈرائیور خدمات انجام دینے والی پہلی سعودی خاتون ہیں جو جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سروس مہیا کررہی ہیں۔
جوہرہ حمدی نے نیوز ویب سائٹ ’دار الاخبار‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایئرپورٹ پر کام کر کے ان کی برسوں کی خواہش پوری ہوئی ہے۔ ’میرے اکثرعزیز جدہ ائیر پورٹ پر مختلف خدمات انجام دیتے ہیں اور میری بھی ایئرپورٹ پر کام کرنے کی بہت خواہش تھی۔‘
’اب میرا زیادہ تر وقت ایئرپورٹ پر گزرتا ہے۔‘
جوہرہ حمدی نے بتایا کہ انہوں نے ایئرپورٹ پر ٹرانسپورٹ کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی سے رجوع کیا جس نے فوری طور پر ان کا اکاؤنٹ بنا دیا۔
’ابتدا میں جدہ شہر کے لیے کام کیا لیکن رمضان المبارک میں ایئرپورٹ پر کام کرنے کا خیال آیا تاکہ دنیا بھر سے عمرے کے لیے آئے ہوئے لاکھوں افراد کی خدمت کر سکوں۔‘
’ا س لیے میں نے اپنی خدمات جدہ ایئرپورٹ کے لیے مخصوص کر دیں۔‘

جوہرہ حمدی کا کہنا تھا کہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے بعد وہ اپنی دوستوں کے ہمراہ تفریح کرنے جاتی تھیں تو انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے دوست اور احباب کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کروں۔
’اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے  اپنی دوستوں سے رابطہ کیا اور انہیں محدود پیمانے پر ٹرانسپورٹ کی خدمات انجام دینا شروع کردیں۔‘
’اس وقت مجھے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیے ہوئے پانچ ماہ ہو چکے تھے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد کسی مناسب نوکری کی تلاش میں تھی۔‘
’اس دوران اپنی ساتھیوں کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت فراہم کرنے کےعلاوہ میرے پاس کوئی کام نہیں تھا۔ ایک دوست نے مجھے ’ٹیکسی ایپ‘ کے بارے میں بتایا جو ایئرپورٹ پر مسافروں کو ٹرانسپورٹ سروس فراہم کرنے کے لیے مخصوص ہے۔‘
جوہرہ حمدی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی خواتین کے بارے میں عالمی سطح پر جو تصور برسوں سے قائم تھا وہ اب رفتہ رفتہ تبدیل ہو رہا ہے۔ مواقع ملنے کے بعد سعودی خواتین ہر میدان میں اپنی صلاحیت کو تسلیم کروا رہی ہیں۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اعلان کے بعد سعودی خواتین جون 2018 سے ڈرائیونگ کر رہی ہیں۔ سعودی خواتین کا کہنا  ہے کہ ڈرائیونگ کی اجازت ملنے سے ان کے متعدد مسائل حل ہوئے ہیں اور اب وہ دیگر ممالک کی خواتین کی طرح اپنے تمام کام خود انجام دے سکتی ہیں۔

شیئر: