کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر کے تحت ’اثرا کلچرل ڈیز: سپین‘ میں اس ہفتے تھیئٹر میں ’کارمن نے جو سپین میں میوزک اور ڈانس کی خاص ’فلیمینکو‘ پرفارمینس ہے، آخری پرفارمینس میں شریک حاضرین کے جذبوں کو مرتعش کرکے دل جیت لیے۔
اثرا کا سٹیج، حرکت، آواز اور لباس کے ذریعے کہانی سنانے کے فن سے دمک اٹھا۔ سٹیج پر دیکھنے اور سننے والوں کا جوش و خروش قابلِ دید تھا۔
مزید پڑھیں
-
دہران کے اثرا تھیٹر میں ’سرکس 1903‘ کا شاندار آغازNode ID: 878546
جب گانے شروع ہوئے تو عربی اور انگریزی میں سب ٹائٹل سٹیج کے اوپر کے حصے پر چلتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔
پرفارمینس میں تقسیم کیے گئے بروشر کے مطابق ’کارمن جو سپین کی ایک فلیمینکو پرفارمینس ہے، اصل میں فلیمینکو بیلے ہے، جو فلیمینکو کے جذبے اور شدت کو بیزے کے آئکونک اوپرا کے ساتھ یکجا کر دیتا ہے۔

اس کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ انیسویں صدی میں سپین کے شہر سی ول میں رقاصوں کے ایک متحرک گروہ نے دو کرداروں کو پھر سے زندہ کرنے کا سوچا جن میں سے ایک آزاد فیکٹری کارکن تھے جن کا نام کارمن تھا اور دوسرے ڈون جوز جو فوجی تھے تھا۔اس کام کے لیے ڈانسرز نے بہت زوردار اور اظہار سے بھرپور فلیمینکو کوریوگرافی کی۔
ان کو لائیو آرکسٹرا، کوائر اور سولواِسٹس کا تعاون حاصل تھا اور یہ پرفارمینس، دیکھنے والوں کو ڈرامائی انداز میں اس دور میں لے گئی جس میں زندگی اور رعنائی سے مزین جذبہ تھا۔

بیزے کے کام کو اس نئے انداز میں پپیش کرنا، فلیمینکو کے مختلف عناصر کا تعارف تھا جنھیں ماضی میں استعمال نہیں کیا گیا تھا۔
اُتیے ریتھ نے، جو بارسولونا فلیمینکو بیلے کے ڈائریکٹر ہیں، سٹیج پر انتہائی موثر پرفارمینسز دیں۔
اس کمپنی کا قیام سنہ 2017 میں ہوا تھا اور آج یہ بین الاقوامی سطح پر سپین کی فلیمینکو ڈانس کمپنیوں میں پہلا نام ہے۔ اُتیے ریتھ، بارسلونا فلیمینکو ایونٹس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر بھی ہیں۔

پرفارمینس کے بعد الناطور کا کہنا تھا ’ہم میں سے بہت سے شائقین نے آج رات پہلی مرتبہ فلیمینکو کی پرفارمینس دیکھی ہے۔ یہ بہت جذباتی اور آرٹ کی ایک مضبوط صنف ہے۔‘
ارینو کا کہنا تھا کہ ’فلیمینکو سے آپ تمام بنیادی انسانی جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔‘
فلیمینکو میں ڈانس، لائیو میوزک اور گلوکاری کو یکجا کر دیا جاتا ہے لیکن اس کا شوخ اور بھڑکیلا وژوئل پہلو شاید سب سے دلکش اور پسندیدہ ہے۔

چونکہ اثرا میں شائقین کو فلیمینکو کلچر کی صرف جھلک ہی دیکھنے کو ملی، اس لیے سپین کے گروپ نے سعودی عرب کے شائقین سے کہا کہ وہ سپین جائیں اور فلیمینکو کی پرفارمینس وہاں جا کر غور سے اور قریب سے دیکھیں۔
ٹرینکوسو کا کہنا تھا ’ظاہر ہے ڈانس اس پرفارمینس کا سب سے اہم دکھائی دینے والا اور توجہ حاصل کرنے والا پہلو ہے لیکن اگر آپ فلیمینکو سیکھنا چاہتے ہیں تو پھر میرے میوزیم میں آئیں۔‘











