انڈیا میں ایک ماہ میں تین مسلمان خواتین کی جان’فاسٹ فوڈ‘ کھانے سے گئی؟
انڈیا میں ایک ماہ میں تین مسلمان خواتین کی جان’فاسٹ فوڈ‘ کھانے سے گئی؟
پیر 19 جنوری 2026 14:30
یوسف تہامی، دہلی
دسمبر میں 16 سالہ لڑکی اہانا نے انڈیا کے سب سے بڑے ہسپتال دہلی میں جان کی بازی ہار دی (فوٹو: زمان ایکس)
انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش کے امروہہ ضلع میں ایک ماہ میں تین مسلمان نوجوان خواتین کی موت سے فاسٹ فوڈ کے منفی اثرات پر مباحثہ شروع ہو گیا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق ان کی موت کی وجوہات میں تینوں خواتین کی فاسٹ فوڈ میں شدید دلچسپی بتائی جا رہی ہے۔ اگرچہ ڈاکٹروں نے ایک معاملے میں فاسٹ فوڈ کو موت کو وجہ نہیں بتایا ہے لیکن فاسٹ فوڈ کے متعلق خدشات میں اضافہ نظر آ رہا ہے۔
دی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پہلی موت کا معاملہ 22 دسمبر کو سامنے آیا تھا جس میں ایک 16 سالہ لڑکی اہانا نے انڈیا کے سب سے بڑے ہسپتال دہلی میں جان کی بازی ہار دی۔ رپورٹس کے مطابق ان کی آنتوں کو موموز اور چاؤمن جیسے فاسٹ فوڈس سے نقصان پہنچا تھا۔
اس کے دس دن بعد یکم جنوری 2026 کو 18 سالہ علمیٰ ندیم کی موت ہوئی۔ ان کی موت بھی فاسٹ فوڈ میں آلودہ گوبھی سے دماغ میں سسٹ ہونے سے بتائی جاتی ہے۔
علمیٰ طب کے شعبے میں جانا چاہتی تھیں اور اس کے لیے این ای ای ٹی (نیٹ) امتحانات کی تیاری کر رہی تھیں۔
جب نو بیاہتا 20 سالہ شفا کی فاسٹ فوڈ کی وجہ سے 15 جنوری کو موت ہوئی تو سوشل میڈیا پر فاسٹ فوڈ کے نقصانات کے متعلق گرما گرم بحث نظر آنے لگی۔
کہا جاتا ہے کہ شفا کو لبلبے کا انفیکشن تلے ہوئے کھانوں کی وجہ سے ہوا تھا۔ ان سب کا علاج انڈیا کے بہترین سرکاری ہسپتال ایمس اور آر ایم ایل میں ہوا لیکن انہیں بچایا نہ جا سکا۔
ہندی اخبار دینک بھاسکر کے مطابق شفا کی شادی کوئی آٹھ ماہ قبل زویا قصبے کے رہائشی اکرم سے ہوئی تھی۔ چاؤمن، میگی، پیزا، برگر اور موموز کے زیادہ استعمال کی وجہ سے انہیں لبلبے کا شدید انفیکشن ہوا جس سے وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ شفا کی بدھ کو دہلی کے ایمس میں علاج کے دوران موت ہو گئی۔
اکرم دہلی میں درزی کا کام کرتے ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق شفا اکثر فاسٹ فوڈ کھاتی تھی۔ 7 جنوری کو شفا کو اچانک پیٹ میں شدید درد ہوا اور اسے زویا قصبے کے جے اے ایم ملٹی سپیشلٹی ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔
ایک معائنے کے بعد، ڈاکٹر ریاض نے کہا کہ فاسٹ فوڈ اور تلے ہوئے کھانوں کی زیادتی لبلبے کے شدید انفیکشن کا باعث بنی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ شفا کا لبلبہ مکمل طور پر خراب ہو گیا تھا اور انفیکشن نے ان کے دماغ کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ ہسپتال میں تین دن کے علاج کے باوجود اس کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی تو انہیں پہلے مراد آباد اور پھر وہاں سے دہلی کے ایمز منتقل کیا گیا جہاں ان کی موت واقع ہو گئی۔
دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امروہہ کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر یوگیندر سنگھ نے کہا کہ موت کی اصل وجہ کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک ٹیم کو ایمس روانہ کیا گیا ہے تاکہ وہاں سے طبی تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔‘
اس دوران ضلعی فوڈ سیفٹی محکمے نے فاسٹ فوڈ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔ ضلعے کے اسسٹنٹ کمشنر ونے کمار اگروال نے کہا کہ انہوں نے ایک ٹیم تشکیل دی ہے جنہوں خوانچہ فروشوں سے کھانوں کے نمونے اکٹھا کیے۔ انہوں نے کہا کہ ’نمونوں کو لیباٹری میں جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور خوانچوں فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔‘
زماں نامی ایک صارف نے امروہہ الرٹ کے تحت ان واقعات کی تفصیل شیئر کی تو ان کی پوسٹ پر لوگوں کی جانب سے طرح طرح کے کمنٹس نظر آئے۔
فری سپیچ نامی ایک صارف نے شیئر کیا کہ 16 سال قبل ان کی ایک رشتہ دار کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ وہ 17 سال کی تھیں جب گوبی منچورین کھانے سے ان کے دماغ میں سسٹ بنا اور ان کی موت ہو گئی۔
ڈاکٹر پیوش رنجن نے کہا کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ فاسٹ فوڈ کھانے سے کوئی شخص براہ راست مر سکتا ہے (فوٹو: پیکسلز)
دوسری جانب این ڈی ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اہانا کی موت کو براہ راست فاسٹ فوڈ کا نتیجہ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ این ڈی ٹی وی کو بتایا گیا کہ اہانا کو 19 دسمبر کو ایمس میں داخل کرایا گیا تھا اور وہ ڈاکٹر سنیل چومبر کی قیادت میں ڈاکٹروں کی نگرانی میں تھیں۔ جب انہیں ایمس لایا گیا، وہ پہلے ہی ٹائیفائیڈ میں مبتلا تھیں۔ انفیکشن کی شدت کی وجہ سے ان کی آنتوں میں سوراخ ہو گیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ ’ایسے معاملات میں جب تک ٹائیفائیڈ کے انفیکشن کو قابو میں نہیں لایا جاتا سرجری نہیں کی جا سکتی۔‘
بہر حال ڈاکٹروں کا مشورہ ہمیشہ فاسٹ فوڈ سے اجتناب کا رہتا ہے لیکن براہ راست فاسٹ فوڈ کو موت کی وجہ ٹھہرانا ان کے نزدیک مناسب نہیں۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کے سر گنگا رام ہسپتال میں انسٹی ٹیوٹ آف لیور، گیسٹرو اینٹرولوجی، اور پینکریٹیکو بلیری سائنسز کے وائس چیئرمین ڈاکٹر پیوش رنجن نے کہا کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ فاسٹ فوڈ کھانے سے کوئی شخص براہ راست مر سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’فاسٹ فوڈ کھانے سے براہ راست آنتیں نہیں پھٹتی۔ آنتوں کے پھٹنے کی سب سے عام وجہ آنتوں میں رکاوٹ ہے۔ فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال ہاضمے کو سست کر سکتا ہے جس سے بعض صورتوں میں آنتوں میں رکاوٹ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر رنجن نے مزید کہا کہ فاسٹ فوڈ اور انتہائی پراسیسڈ فوڈز کھانے سے مال نیوٹریشن، جگر کے مسائل، موٹاپا، اور ہاضمے کے مسائل جیسے گیس، اسہال، ایسڈ ریفلوکس اور جی ای آر ڈی ہو سکتے ہیں۔