Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’فون کے بعد خاموشی چھا گئی‘، گل پلازہ میں لاپتہ افراد کے رشتہ دار کسی معجزے کے منتظر

گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ میں لاپتہ ہونے والے دکاندار محمد رمضان اور ان کے بیٹے محمد شیراز کے اہل خانہ گزشتہ 34 گھنٹوں سے پلازہ کے باہر کھلے آسمان تلے کھڑے ہیں، آنکھیں پلازہ کی جلی ہوئی عمارت پر جمی ہیں اور دل اس امید سے بندھا ہے کہ شاید کوئی معجزہ ہوجائے۔ کبھی دعا، کبھی سسکیاں اور کبھی خاموشی، یہی منظر گل پلازہ کے اطراف کی سڑکوں پر دکھائی دیتا ہے۔
محمد شیراز کے ماموں محمد انوار نے اردو نیوز کو بتایا کہ محمد شیراز کی دو سال قبل ہی شادی ہوئی تھی اور ان کا ایک برس کا بیٹا ہے۔
محمد شیزار اور محمد رمضان کراچی کے علاقے خداد کالونی کے رہائشی ہیں اور گل پلازہ میں بیڈ شیٹس اور کپڑوں کا کاروبار کرتے تھے۔
محمد انوار کے مطابق ان سے آخری بار سنیچر کی شب تقریباً 10 بجے بات ہوئی تھی۔ ’فون پر گھبراہٹ صاف محسوس ہو رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں آگ لگ گئی ہے اور وہ دھوئیں اور شعلوں کے درمیان سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد فون بند ہو گیا اور پھر خاموشی چھا گئی، جو اب تک ختم نہیں ہو سکی۔‘
کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی یہ خوفناک آگ 33 گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد بجھائی گئی ہے تاہم کولنگ کا عمل اب بھی جاری ہے۔
دوسری جانب وزیراعلٰی سندھ کے ساتھ ایک اجلاس میں حکام نے 50 سے زیادہ ہلاکتوں کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ 
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبیل کھوسو نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس المناک سانحے میں اب تک 14 افراد جان سے گئے۔
واضح رہے کہ تقریباً 60 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کے اہل خانہ کی امید ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ختم ہوتی جا رہی ہے۔

33 گھنٹے بعد پلازے میں آگ بجھائی گئی (فوٹو: اے ایف پی)

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے میڈیا کو بتایا کہ نکالی جانے والی آٹھ لاشیں اس حد تک جھلس چکی ہیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں رہی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ سے موبائل نمبرز حاصل کر لیے گئے ہیں اور ابتدائی معلومات کے مطابق 20 سے زائد افراد کی آخری لوکیشن گل پلازہ کے اندر کی آئی ہے جس نے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران ملبے اور جلی ہوئی دکانوں سے مزید لاشیں، ایک بچے سمیت متعدد افراد کے جلے ہوئے اعضا برآمد ہوئے ہیں، جنہیں سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔ آگ کی شدت نے عمارت کو اس قدر نقصان پہنچایا کہ اس کے ستون کمزور ہو چکے ہیں اور مختلف حصوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں، جس کے باعث ہر قدم پر خطرہ موجود ہے۔

تقریباً 60 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

آگ سینچر کی رات سوا 10 بجے گراؤنڈ فلور پر لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک جا پہنچی۔ شعلے بلند ہوتے گئے، دھواں ہر سمت پھیل گیا اور اندر موجود دکانیں اور خواب راکھ بن گئے۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل جدوجہد کرتی رہیں، مگر تنگ راستے، شدید دھواں اور عمارت کی خستہ حالت رکاوٹ بنتی رہی۔
سانحے کے بعد گل پلازہ کے باہر تشویشناک منظر ہے۔ کوئی اپنے بھائی کو پکار رہا ہے، کوئی بیٹے کا نام لے کر رو رہا ہے اور کوئی خاموشی سے ملبے کو تک رہا ہے۔ حکام کے مطابق کولنگ مکمل ہونے کے بعد سرچ آپریشن مزید تیز کیا جائے گا، مگر متاثرہ خاندانوں کے لیے ہر گزرتا لمحہ ایک نئی آزمائش بن چکا ہے۔

شیئر: