ایتھلیٹ کا ڈوپ ٹیسٹ، انڈیا گولڈ میڈل کھو دے گا

گوماتھی نے ایشیئن چیمپئن شپ میں 800 میٹر کا فاصلہ محض دو منٹ 2.7 سیکنڈز میں طے کیا تھا
انڈین خاتون ایتھلیٹ گوماتھی مری موتھو گذشتہ ماہ 800 میٹر ریس میں ایشیئن چیمپئن شپ جیتنے کے بعد ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام ہوگئی ہیں۔
انڈین ایتھلیٹکس فیڈریشن کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ گذشتہ ماہ دوحہ میں ایشین چیمپئن شپ جیتنے والی 30 سالہ گوماتھی کے خون میں اینابولک سٹرائیڈ یا پرو ہارمونز پائے گئے ہیں۔
ترجمان کے بقول 'بی سیمپل ٹیسٹ ہونے تک گوماتھی کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ اگر بی سیمپل ٹیسٹ بھی مثبت آتا ہے تو انہیں چار سال تک کی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور انڈیا ان کا جیتا ہوا سونے کا تمغہ بھی کھو دے گا۔'
خیال رہے کہ ایتھلیٹکس فیڈریشن کی بین الاقوامی ایسوسی ایشن میں کھلاڑیوں کی جانب سے ممنوعہ ادویات کے استعمال پر جانچ پڑتال کرنے والے یونٹ نے گوماتھی سمیت بحرین کے ایک ایتھلیٹ یونس کروا کی ڈوپ ٹیسٹ میں ناکامی کا اعلان منگل کی رات کو سوشل میڈیا پر کیا۔

گوماتھی پر چار سال تک کی پابندی لگ سکتی ہے
گوماتھی پر چار سال تک کی پابندی لگ سکتی ہے

ٹویٹر پر جاری اس یونٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گوماتھی کے خون میں نورینڈرو سٹریون نامی پروہارمونز پائے گئے ہیں۔
انڈیا کی جنوبی ریاست تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والی گوماتھی نے ایشیئن چیمپئن شپ میں 800 میٹر کا فاصلہ محض دو منٹ 2.7 سیکنڈز میں طے کرکے سب کو حیران کر دیا تھا۔
گوماتھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر حیران ہیں اور بی سیمپل ٹیسٹ کے نتائج دیکھیں گی۔
تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق گوماتھی رواں سال مارچ میں انڈیا میں ہونے والے ڈوپ ٹیسٹ میں ہی ناکام ہوگئی تھیں مگر انڈیا میں کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ کرنے والے یونٹ نے اس ٹیسٹ کے نتائج ایتھلیٹکس فیڈریشن کو نہیں بتائے تھے۔

شیئر: