Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فواد رانا کی بھائیوں سے قانونی جنگ، لاہور قلندرز کی ملکیت کا تنازع کیا ہے؟

لاہور قلندرز تین مرتبہ پی ایس ایل کا ٹائٹل اپنے نام کر چکا ہے (فوٹو: پی سی بی)
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تین مرتبہ کی چیمپیئن ٹیم لاہور قلندرز اپنی شاندار کارکردگی کے بجائے اس بار مالکان کے خاندانی تنازعے کی وجہ سے خبروں میں ہے۔
لاہور قلندرز کی ملکیت کے حوالے سے جاری خاندانی جھگڑے میں ثالثی عدالت نے فواد رانا کے حق میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔
21 صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق عدالت نے حکم دیا ہے کہ لاہور قلندرز کے موجودہ مالکان عاطف رانا اور ثمین رانا یا تو فرنچائز کا انتظامی کنٹرول دوبارہ ’قطر لبریکنٹس کمپنی‘ (کیو اے ایل سی او) کو واپس کریں یا پھر فواد رانا کے حصص کے عوض 2 ارب 30 کروڑ ارب روپے ادا کریں۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے مقرر کیے گئے ثالث جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے دیا ہے جبکہ فیصلے پر عمل درآمد کے لیے 45 دن کی مہلت دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تنازع غالباً یہیں ختم نہیں ہوگا، کیونکہ عاطف رانا نے تصدیق کی ہے کہ ان کی قانونی ٹیم فیصلے کے خلاف اپیل کے تمام ممکنہ راستوں پر غور کر رہی ہے۔ یہ معاملہ گذشتہ چند برسوں سے لاہور قلندرز کے پس منظر میں جاری ایک تلخ خاندانی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے، جس سے زیادہ تر لوگ لاعلم رہے ہیں۔

خاندانی فرنچائز کا آغاز

دسمبر 2015 میں جب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پی ایس ایل کی فرنچائزز کی نیلامی کا اعلان کیا تو فواد رانا ابتدائی بولی دہندگان میں شامل تھے۔ انہوں نے لاہور کی فرنچائز 10 سال کے لیے 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالر میں حاصل کی۔ یہ خریداری انہوں نے براہِ راست نہیں بلکہ قطر میں رجسٹرڈ اپنی کمپنی قطر لبریکنٹس کمپنی (کیو اے ایل سی او) کے ذریعے کی جس کے وہ مینجنگ ڈائریکٹر ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فواد رانا نے اس فرنچائز کو خاندانی بنیادوں پر چلانے کا فیصلہ کیا اور اپنے بھائی عاطف رانا کو بھی انتظامی معاملات میں شامل کیا۔ دونوں بھائیوں نے یہ طے کیا کہ فرنچائز کی ملکیت کسی پاکستانی کمپنی کے پاس ہونی چاہیے، اس لیے جنوری 2016 میں پاکستان میں ایک خصوصی کمپنی ’کوثر رانا ریسورسز‘ (کے کے آر) قائم کی گئی جس کا نام ان کی والدہ کے نام پر رکھا گیا۔

فواد رانا نے اپنے بھائی عاطف رانا کو بھی لاہور قلندرز کے انتظامی معاملات میں شامل کیا (فائل فوٹو: لاہور قلندرز)

’کے آر آر‘ کو پاکستان میں لاہور قلندرز کی ملکیتی کمپنی کے طور پر رجسٹر کیا گیا۔ اس وقت ملکیتی ڈھانچہ یہ تھا کہ ’کیو اے ایل سی او‘ کے پاس ’کے آر آر‘ کے 51 فیصد حصص تھے، جس سے فواد رانا کو فرنچائز پر انتظامی کنٹرول حاصل تھا۔ اس کے علاوہ فواد رانا کے پاس ذاتی طور پر ایک فیصد شیئرز بھی تھے، جبکہ باقی 48 فیصد حصص عاطف رانا کے نام تھے۔
رپورٹ کے مطابق عاطف رانا نے براہِ راست سرمایہ کاری نہیں کی تھی، تاہم فواد رانا نے روزمرہ معاملات سنبھالنے کے لیے انہیں بڑا حصہ دے دیا کیونکہ وہ خود زیادہ وقت قطر میں قیام کرتے تھے۔

تنازعے کی شروعات

فواد رانا پی ایس ایل کے دوران اپنے جذباتی انداز میں باؤنڈری لائن پر موجودگی کے باعث خاصے مقبول رہے، اگرچہ ٹیم ابتدا میں میدان میں اور مالی طور پر مشکلات کا شکار رہی۔ پی ایس ایل منافع بخش لیگ تھی، تاہم پی سی بی کی جانب سے 20 فیصد آمدن رکھنے اور باقی 80 فیصد فرنچائزز میں تقسیم کرنے کے ماڈل کے باعث ٹیموں کو مالی دباؤ کا سامنا تھا۔
دوسری جانب بھائیوں کے درمیان اختلافات کی پہلی جھلک 2018 میں سامنے آئی، جب ’کیو اے ایل سی او‘ کے چار فیصد حصص عاطف رانا کو منتقل کیے گئے۔ اس منتقلی کے بعد فواد رانا کی اکثریتی ملکیت ختم ہو گئی۔ عاطف رانا کے وکلا کے مطابق یہ منتقلی فرنچائز پر مالی دباؤ کے باعث کی گئی، جبکہ یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ لاہور قلندرز ابوظبی ٹی10 لیگ میں شرکت کرنا چاہتی تھی، جو قطری کمپنی کی ملکیت ہونے کے باعث ممکن نہیں تھا۔

سنہ 2020 میں فواد رانا کو بڑی خریداری کی خبر ملی (فائل فوٹو: لاہور قلندرز)

سنہ 2020 کی متنازع منتقلی
عدالتی دستاویزات کے مطابق سنہ 2020 میں عاطف اور ثمین رانا نے فواد رانا سے کہا کہ ایک خریدار لاہور قلندرز کو اچھی قیمت پر خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے، مگر وہ صرف اسی صورت میں بات کرے گا جب تمام شیئرز ان کے نام ہوں۔ اس بنیاد پر فواد رانا کو قائل کیا گیا کہ وہ اپنے باقی 47 فیصد حصص بھی عاطف رانا کے نام منتقل کر دیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ حصص بغیر کسی ادائیگی کے منتقل کیے گئے، جس کی تصدیق جرح کے دوران خود عاطف اور ثمین رانا نے بھی کی۔ عدالتی فیصلے میں واضح طور پر درج ہے کہ کوئی پے آرڈر یا چیک ادا نہیں کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق کورونا وبا کے دوران فواد رانا صحت کے شدید مسائل اور مالی دباؤ کا شکار تھے، جس کے بعد انہیں آہستہ آہستہ فرنچائز سے الگ کر دیا گیا۔

’مسٹر نیازی‘ کا معاملہ

سنہ 2021 میں ’کے آر آر‘ کی جانب سے مبینہ طور پر قریباً 30 فیصد حصص ایک نامعلوم شخص ’مسٹر نیازی‘ کو فروخت کیے گئے۔ اس سودے کا انکشاف ثالثی کی کارروائی کے دوران ہوا۔ فواد رانا کے وکلا کا کہنا ہے کہ یہ فروخت ان سے چُھپائی گئی، جبکہ عاطف رانا کے وکلا کا دعویٰ ہے کہ فواد رانا اس سے آگاہ تھے۔
عدالتی دستاویزات میں اس شخص کی کوئی مکمل تفصیل موجود نہیں جس کے باعث معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔

سنہ2021 میں 30 فیصد حصص ایک نامعلوم شخص ’مسٹر نیازی‘ کو فروخت کیے گئے (فائل فوٹو: لاہور قلندرز)

عدالت کا فیصلہ

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے اپنے فیصلے میں ’کے آر آر‘ کو حکم دیا ہے کہ وہ ’کیو اے ایل سی او‘ کو 2 ارب 30 کروڑ روپے منافعے سمیت ادا کرے، جو کہ آڈٹ شدہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق واجب الادا ہیں۔ یہ رقم سود سمیت تین ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ اگر یہ رقم ادا نہ کی گئی تو ’کیو اے ایل سی او‘ کے 51 فیصد حصص فوری طور پر بحال کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ’مسٹر نیازی‘ کو مبینہ فروخت کیے گئے 30 فیصد حصص سے حاصل ہونے والے تمام منافع کا مکمل حساب بھی پیش کیا جائے۔

معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا

عاطف رانا نے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپیل میں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ میرے بڑے بھائی ہیں، میں ان کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں؟‘
دوسری جانب فواد رانا اور ’کیو اے ایل سی او‘ کے وکلا نے پی سی بی کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ جب تک رقم کی ادائیگی یا حصص کی منتقلی مکمل نہیں ہو جاتی، پی سی بی عاطف اور ثمین رانا کے ساتھ کسی بڑے فیصلے یا معاہدے سے گریز کرے۔

شیئر: