آئی سی سی نے بنگلہ دیش کا اپنے ٹی20 ورلڈ کپ میچز انڈیا سے منتقل کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا
بی سی بی نے درخواست کی تھی کہ ان کے میچ ورلڈ کپ کے شریک میزبان سری لنکا منتقل کیے جائیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
کرکٹ کی عالمی تنظیم نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے بنگلہ دیش کی جانب سے اپنے ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ انڈیا سے باہر منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، جس کے باعث اگلے ماہ ہونے والے ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیش کی شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹی 20 ورلڈ کپ 7 فروری کو شروع ہو رہا ہےاور بنگلہ دیش کے گروپ کے چاروں میچ کولکتہ اور ممبئی میں شیڈول ہیں۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے بارہا انڈیا میں اپنے میچ کھیلنے سے انکار کیا ہے، جبکہ حکومت نے منگل کے روز کہا تھا کہ وہ اپنے مؤقف میں تبدیلی کے لیے دباؤ قبول نہیں کرے گی۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ایک بیان میں کہا کہ بنگلہ دیشی ٹیم کو سکیورٹی خطرے سے متلعق ’آزادانہ رپورٹ‘ کی عدم موجودگی میں، میچز کی منتقلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان یہ تنازع 3 جنوری کو اس وقت شروع ہوا جب انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ریلیز کرنے کا حکم دیا۔
بی سی بی نے درخواست کی تھی کہ ان کے میچ ورلڈ کپ کے شریک میزبان سری لنکا منتقل کیے جائیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا بنگلہ دیش آئی سی سی کے فیصلے کو تسلیم کرے گا یا نہیں۔
آئی سی سی نے کہا کہ اس نے بنگلہ دیش کی ٹورنامنٹ میں شرکت یقینی بنانے کے لیے بی سی بی کے ساتھ ’مسلسل اور تعمیری مذاکرات‘ کیے، تاہم یہ کوششیں ’مسترد‘ کر دی گئیں۔
آئی سی سی کے بیان کے مطابق ’آزاد سکیورٹی جائزوں، مقامات کی سطح پر جامع حفاظتی منصوبوں اور میزبان حکام کی جانب سے باضابطہ یقین دہانیوں‘ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بنگلہ دیش ٹیم کی سلامتی کو لاحق کوئی ’قابلِ اعتبار یا قابلِ تصدیق خطرہ‘ موجود نہیں ہے۔
کونسل نے مزید کہا کہ کوششوں کے باوجود بی سی بی اپنے مؤقف پر قائم رہا اور اس کی وجہ ’ایک کھلاڑی کی مقامی لیگ میں شمولیت سے متعلق ایک واحد، الگ تھلگ اور غیر متعلقہ واقعہ‘ کو قرار دیا گیا۔
ڈھاکہ کی عبوری حکومت میں نوجوانوں اور کھیلوں کے مشیر آصف نظرٓل نے منگل کی شب سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس کو بتایا کہ بنگلہ دیش کو انڈیا میں کھیلنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا‘۔
